خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 226
خطبات طاہر جلد 16 226 خطبہ جمعہ 28 / مارچ 1997ء في الْأَمْرِ اور ان سے مشورے بھی کیا کر فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ پس جب تو فیصلہ کرلے تو پھر تو کل اللہ پر رکھنا ہے اِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ يقينا اللہ تعالیٰ تو کل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ان آیات کی بارہا تلاوت بھی کی گئی اور ان سے روشنی لے کر بہت سے اہم مضامین بھی جماعت کے سامنے بیان کئے گئے مگر ہمیشہ جب ان کی دوبارہ تلاوت کی جاتی ہے تو کچھ اور بھی ایسے عقل و نظر کے گوشے ہیں جن پر یہ آیات خصوصیت سے روشنی ڈالتی ہیں۔پس لازم نہیں کہ ہر دفعہ وہی بات دہرائی جائے اور نہ دہرائی جاسکتی ہے کیونکہ ہر موقع پر یہ آیت اپنا کوئی نہ کوئی پہلو نمایاں طور پر سامنے پیش کر دیتی ہے۔اس پہلو سے آج اس آیت کریمہ کے تعلق میں میں یہ بات سامنے رکھنا چاہتا ہوں فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ ۚ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ ان دو آیات کو اکٹھا پڑھنے سے یہ جو خیال گزرتا ہے کہ تو نرم ہے اس لئے تیرے ارد گر دا کٹھے ہیں اور ان کو اکٹھا رکھنے کے لئے تجھے نرم رہنا چاہئے یہ غلط تاثر ہے یہ مضمون نہیں ہے۔مضمون یہ ہے کہ تیرا ان پر نرم ہونا ان کا بنیادی حق نہیں ہے کیونکہ ان میں بدخو بھی ہیں، ان میں بد کلام لوگ بھی ہیں جو تیرے ارد گرد اکٹھے ہوئے ہیں ان میں ہر قسم کے انسان موجود ہیں لیکن یہ تیری رحمت ہے کہ تجھے سب دنیا کے لئے رحمت بنایا گیا ہے اور اس لئے کہ تو بنی نوع انسان میں سے ہر ایک کے لئے رحمت ہے ان میں ہر قسم کے لوگ شامل ہوں گے، ہر نوع کے لوگ شامل ہوں گے تجھے ان سب کے لئے رحمت بنایا جانا ثابت کرتا ہے کہ ایک ایسی عظیم فضیلت ہے جس کے نتیجے میں تولازم سب کے لئے نرم ہے۔اپنے ہوں، غیر ہوں، دشمن ہوں ، ان کے لئے بھی تو نرم ہے۔پس تیرا نرم ہونا کسی ضرورت کے پیش نظر نہیں ہے، کسی حکمت عملی کے پیش نظر نہیں۔یہ نتیجہ کہ نرم ہو حکمت عملی کی خاطر، اس لئے نکالنا غلط ہے کہ آخر پر تان تو کل پہ توڑی گئی ہے کہ ان لوگوں پر تیرا سہارا نہیں ہے۔تو ان کا ایسا ضرورت مند نہیں کہ تجھے چھوڑ کر چلے جائیں تو گویا تیرے سارے کام بگڑ جائیں گے۔ایک ادنی سا کام بھی تیرا نہیں بگڑے گا کیونکہ اللہ پر توکل ہے اور اللہ تیرے جیسے تو کل کرنے والوں سے تو محبت کرتا ہے تجھے ضرورت کیا ہے کسی کی خوشامد کی کسی کے سامنے جھکنے کی۔پس جھکنا ایک احسان ہے، جھکنے کی غرض صلى الله احسان ہے اور وہ احسان ایسا ہے جو طبیعت میں داخل فرما دیا گیا ہے اس کے سوا محمد رسول اللہ ہی کچھ کر