خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 228 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 228

خطبات طاہر جلد 16 228 خطبہ جمعہ 28 / مارچ 1997ء ملے گا اور جب ایک دفعہ منتخب ہو جائیں تو درمیان میں دربان حائل ، دروازے حائل ، اونچے محل حائل اور ان کو وقت ہی نہیں ملتا کہ ان غریبوں کے پاس دوبارہ جا کر ان کا شکریہ بھی ادا کر سکیں اور ان کی ضرورتیں پوری کرنے کا تو کوئی تصور ا کثر رکھتے ہی نہیں۔پس ایسے وعدے جو ووٹ مانگنے کے لئے کئے جائیں ان کی کوئی بھی حقیقت نہیں، سب دنیا جانتی ہے ان کی کیا حقیقت ہے۔وہی خدمت کرنے والا عوام کی خدمت کرتا ہے جو مزاجاً خدمت کرنے والا ہو اور یہ ایک پختہ قطعی حقیقت ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں۔اس کو کوئی ووٹ دے یا نہ دے جس کے مزاج میں خدمت ہے وہ تو غریبانہ حالت میں بھی خدمت ہی کرتا رہتا ہے۔بعض ایسے غریب بھی ہیں جن کو کچھ دینے کی توفیق نہیں وہ رستہ چلتے کی جو بھی خدمت ممکن ہے وہ کر دیتے ہیں، کسی کا سامان اٹھا کے چل پڑیں گے کسی سے جھک کر کہیں گے کوئی ہمارے لائق خدمت ہو، کوئی ہم سے بھی کام لو تو خدمت کا مضمون کسی لالچ کے ساتھ متعلق نہیں ہے۔جہاں حرص، لالچ ، غرض داخل ہوئی وہاں خدمت غائب ہوگئی۔پس یہ آیات ہمیں یہ سمجھا رہی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ووٹ کی خاطر کبھی نرمی نہیں کی تھی فَمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمْ تو تو اللہ کی رحمت کی وجہ سے ان کے لئے نرم ہوا ہے تیرے تصور کے کسی گوشے میں بھی یہ بات نہیں کہ اگر میں نرم نہ ہوا تو یہ میرے مقصد میں مدد دینے کی بجائے مجھ سے دور ہٹ جائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تجھے ساری دنیا کو اکٹھا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے بنایا تھا۔پس اسی تقاضے کے پیش نظر جو عالمی تقاضا تھا تجھے حسن و احسان کی بھی ایسی صفات عطا کی گئیں کہ جس کی کوئی مثال دکھائی نہیں دیتی۔پس یہ مضمون ہے کہ محمد رسول اللہ کو دل کی سختی زیب ہی نہیں دیتی تھی ، آپ کے مقاصد سے اس کا دور کا بھی تعلق نہیں تھا اس لئے نہیں دی گئی۔بدخلقی کا آپ کے مقاصد سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں تھا اس خلق کے سب سے اعلیٰ مقامات پر آپ کو فائزہ فرمایا گیا۔اس مضمون کو سمجھ کر کہ ہر گز اخلاق کا تعلق غرض سے نہیں ہے اخلاق خواہ مذہبی ہوں خواہ دنیا کے ہوں، اگر ہیں تو ہوں گے نہیں ہیں تو نہیں ہوں گے مگر اغراض سے اخلاق پیدا نہیں ہوا کرتے۔اغراض سے اخلاق مر جایا کرتے ہیں۔اگر آپ کسی کی خدمت کریں اور غرض کوئی احسان جتانا ہو یا زیر نگیں کرنا ہو یا فائدے اٹھانا ہو تو قرآن ایسی ساری خدمتوں کو رد کر دیتا ہے کہ ان کی کوئی حیثیت ہی