خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 220 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 220

خطبات طاہر جلد 16 220 خطبہ جمعہ 21 / مارچ 1997ء فرمایا ہے تو کل اللہ پر کرنا، اس کی رحمانیت پر تو کل کرنا ، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا کے ذرائع جو خدا تعالیٰ نے پیدا فرمائے ہیں ان سے آپ منہ پھیر لیں اس لئے وہ ذرائع اختیار کرنے ہیں اور اس کے باوجود رحمن خدا کو سمجھنا ہے یا رب خدا کو سمجھنا ہے۔جب تک آپ اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکیں گے آپ کے تعلقات اپنے رب سے یا اپنے رحمن خدا سے درست ہو ہی نہیں سکتے۔سوال یہ ہے یا کہ وہ تعلقات آپ کی نظر میں ادنیٰ ہیں جو دنیا کے ہیں یا اللہ سے جو رحم کی توقع ہے وہ ادنی ہے اور یہ بار یک فیصلہ ہر انسان اپنی ذات کے اندر کر سکتا ہے، کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔اگر کہیں دنیا کے اسباب انسان اس لئے اختیار کرتا ہے کہ میرے اللہ کا حکم ہے اور مسلسل یقین رکھتا ہے کہ ان اسباب کو پھل لگیں گے ہی نہیں جب تک خدا نہیں چاہے گا تو یہ اسباب پھر شرک نہیں ہیں، یہ عبادت بن جاتے ہیں اور اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں یہ داخل ہو جاتے ہیں پھر۔پس اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا یہ مضمون بنے گا کہ اے خدا ہم مانگتے ہی نہیں بلکہ تو نے جو کچھ ہمیں مہیا کیا ہے سب کچھ اس راہ میں صرف کر رہے ہیں اب باقی ہمارے پاس کیا رہا ہے لیکن جو کچھ تو نے ذرائع اور اسباب ہمیں مہیا فرمائے تھے وہ تیری مرضی کے بغیر کام کر ہی نہیں سکتے اس لئے اپنا سب کچھ لے کے تیرے دربار میں حاضر ہو گئے ہیں۔مانگتے بھی تجھ سے ہیں اور جیسے تو نے کہا وہ سب کر دیکھا ہے۔اب نتیجہ نکالنا تیرے ہاتھ میں ہے۔اس لئے اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ہم تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں اور مدد چاہنے میں دعاؤں کے رنگ سیکھنے کا مضمون بھی داخل ہے اس کو وہاں تک پھیلائیں تو پھر اور بھی زیادہ آپ کی دعا میں وسعت پیدا ہو جائے گی اور گہرائی پیدا ہو جائے گی۔یہ جو دعا کے مختلف طریق اِيَّاكَ نَعْبُدُ کے حوالے سے میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں اس میں یہ بات بھی داخل اگر آپ کر لیں کہ اے خدا ہم تیری عبادت کرتے ہیں واقعۂ تعلق تو ڑ بیٹھے ہیں دوسروں سے جو تو نے کہا یہ کیا کرو ایسے موقع پر وہ کر رہے ہیں ہم اور اس کے باوجود ہم اپنی طاقت سے کچھ بھی حاصل نہیں کرتے کیونکہ ہماری دعاؤں میں بھی نہیں جانتے کہ وہ سوز اور وہ قوت ہے دل کی گہرائی سے اٹھنے والی دعاؤں کی قوت جو مقبولیت کا نشان بن جایا کرتی ہے، ہم نہیں جانتے کہ وہ قوت ان دعاؤں کو حاصل ہے کہ نہیں، ہم نہیں جانتے کہ ہمارے ذرائع کافی ہیں کہ نہیں۔اب ذرائع نا کافی ہوں تو پھر انسان غیر اللہ کی طرف بھی دوڑ سکتا ہے۔غیر اللہ کی طرف دوڑنے کا ایک معنی یہ ہے