خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 221 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 221

خطبات طاہر جلد 16 221 خطبہ جمعہ 21 / مارچ 1997ء کہ پورے ذرائع کام نہیں کرتے چلورشوت دے کر کچھ ذرائع کو آسان کر لیں۔تو یہ دعا ان معنوں میں پھر ایک عظیم دعا بنے گی اور کارآمد ہوگی کہ یہ فیصلہ کریں کہ جو کچھ ہماری طاقت میں تھا اس لئے کیا تھا کہ تو نے فرمایا تھا۔اس لئے تو نہیں کیا کہ ہم ان چیزوں پر سہارا کر رہے ہیں اور ثبوت یہ ہے ایاک یعنی صرف تیری عبادت کرتے ہیں۔اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ بعض ناجائز ذرائع ہمارے رستے میں آئے تھے مہیا ہوئے تھے ہمیں لوگوں نے سمجھایا کہ اگر چاہو تو یہ کام کیا جا سکتا ہے مگر ہم رک گئے ، ہم نے نہیں کیا تا کہ جب تیرے حضور یہ دعالے کے حاضر ہوں کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ تو اس میں کسی قسم کا کوئی رخنہ نہ ہو، کوئی کھوٹ شامل نہ ہو۔اس لئے اب سب کچھ ہم تیرے حضور حاضر کر رہے ہیں یہ دعا نا مقبول ہو ہی نہیں سکتی ، ناممکن ہے اور کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بندوں نے اس کو آزما کے دیکھا ہے۔جب ان شرطوں کے ساتھ آپ خدا کے حضور حاضر ہوں تو ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ دعائیں مقبول نہ ہوں۔اگر کہیں مقبول نہیں ہور ہیں یا لگتا ہے کہ مقبول نہیں ہور ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اس کے دو ایسے پہلو ہیں جو پیش نظر رکھنا۔ایک ہے وفا اور صبر کا پہلو۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں یہ بھی مضمون ہے کہ اے اللہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں وَايَّاكَ نَسْتَعِيْنُ اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں، یہ چند دن کا قصہ نہیں رہا، یہ چند مہینوں کی بات نہیں یہ سال دو سال کا ماجرا نہیں ہے ساری زندگی ہم یہی کریں گے تو پھر مایوسی کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، پھر تو بال بڑھاپے سے بھڑک بھی اٹھیں تب بھی انسان یہی کہے گا کہ تیری دعا سے میں مایوس ہونے والوں میں سے نہیں ہوں تو بعض دفعہ دعا میں ایک صبر کا مضمون داخل ہوتا ہے جو اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں شامل ہے۔پس اس لئے یہ کہنا کہ دعا مقبول نہیں ہوئی یہ درست نہیں ، یہ دعا کی شرطوں کی آزمائش کا ایک طریق ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم جو کہتے ہو کہ سب کچھ مجھے دے بیٹھے ہو، سب کچھ میرے سپرد کر دیا ہے، ساری زندگی کی وفائیں میرے قدموں میں ڈال دیں تو چلو دیکھتے ہیں کہ واقعہ بچے بھی ہو کہ نہیں اور جب پھر انسان وفا کا معاملہ کرے تو بعض دفعہ ساری عمر کی مانگی ہوئی دعائیں بھی خدا ایسے لحات میں قبول کر لیتا ہے جن لمحات میں دوسرے خدا کو چھوڑ کر جارہے ہوتے ہیں اور ایسا شخص جو وفا کے ساتھ دعاؤں پر قائم رہتا ہے وہ ہمیشہ کے لئے خدا کی گود میں آجاتا ہے تو ایک یہ بھی وجہ ہے