خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 219
خطبات طاہر جلد 16 219 خطبہ جمعہ 21 / مارچ 1997ء اور ایک دفعہ ایک تحقیق کے نتیجے میں واقعہ ایسی باتیں سامنے آئیں کہ جن لوگوں کو حکومت کے قریب سمجھا گیا وہ یہ بھی نہیں کہتے تھے کہ فلاں نے ہمیں یہ کہا ہے اور فلاں طرف سے آرڈر آیا ہے وہ صرف دو حرف ڈال دیتے تھے کہ یہ کام کرنا ہے اور وہ کام ہو جا تا تھا، بڑے بڑے افسروں کی مجال نہیں تھی کہ یہ جاننے کے باوجود کہ فلاں کا دوست ہے یا آنا جانا رکھتا ہے وہاں اس کے حکم کا انکار کر سکیں۔تو رحمان یہ بن جاتے ہیں ان معنوں میں کہ بن مانگے دینے والے بن گئے ہیں ان کے کہنے کی ضرورت نہیں اور اگر کہہ کے مانگیں تو اکثر انکار ہی ہو جائیں گے۔تو انسان رحمن کسی اور کو سمجھے اور اللہ سے تعلق رکھے یعنی بظاہر ، اور کہے اے رحمن تیری صفت رحمانیت نے ایسا میرے دل کو کھینچا ہے کہ اب میں یہ فیصلہ کرتا ہوں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔تو جور بوبیت کی چمک تھی، ربوبیت کی کشش تھی وہ اپنی جگہ کام کر رہی ہے۔ایک رحمانیت کی کشش ہے وہ اپنی جگہ کام کرتی ہے پھر گناہوں سے بخشش کے لئے رحمانیت کام آتی ہے جہاں کوئی شخص پھنسا وہاں اس کار رحمن بدل جاتا ہے اللہ کی طرف دوڑنے کے بجائے پہلا خیال اپنے دوستوں کا آتا ہے، اپنے تعلق والوں کا آتا ہے، افسر متعلقہ کا آتا ہے،اس سے رحم کی بھیک مانگوں اور جو بھی بخشش ہے اس کے بغیر ممکن نہیں گویا اس کی رحمانیت ہی ہے جو ڈھانپ لے تو میں بخشا جاؤں گا نہ ڈھانچے تو نہیں بخشا جاؤں گا۔واقعہ یہ تو کل کس پر ہے یہ ہے اصل بات۔اگر تو کل غیر اللہ پر ہوتو اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا بالکل بے معنی ہوگا۔مرغی کے متعلق آتا ہے کہ انڈے کہیں دے، پیٹیں کہیں اور کرے۔پس دین کو تو آپ نے بیٹیوں سے بھر دیا ہو اور انڈے دوسرے گھروں میں دیتے ہوں اور جب ضرورت پڑے تو بیٹیوں کے مقام پر جا کے انڈے مانگیں یہ کیسے ہوسکتا ہے۔آپ نے اگر رجمن سے تعلق رکھنا ہے تو پاکیزگی کا، رحم کا تعلق اس طرح رکھیں کہ اس کی رحمانیت کے مقابل پر کسی کی رحمانیت کو خاطر میں نہ لائیں۔ہر مشکل، ہر مصیبت کے وقت پہلا خیال دعا کا ہو اور اس طرح بھی انسان اپنی شناخت کر سکتا ہے۔اگر پہلا خیال دوسروں کا ہو اور ساتھ دعا بھی مانگے یا کہے کہ آپ میرا یہ کام کروا دیں اور دعا بھی کریں تو یہ جھوٹ ہی جھوٹ ہے۔اگر چہ یہ ایک مشکل مسئلہ ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس راہ کے خطرات کو کھول کھول کر بیان کرتے ہوئے ہمیں سمجھایا ہے۔