خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 218
خطبات طاہر جلد 16 218 خطبہ جمعہ 21 / مارچ 1997ء پھر اس کا اثر آپ ضرور دیکھیں گے لازماً ظاہر ہوگا۔پس اللہ تعالیٰ نے تو ہر توقع جو انسان سے رکھی ہے، اپنے بندوں سے، اس کو آسان کر کے دکھا دیا ہے کھول کھول کر سمجھا دیا ہے یہ طریق اختیار کرو، یہ طریق اختیار کرو تو پھر تم میری راہ پر قدم رکھنا مشکل نہیں پاؤ گے، وہ راہ آسان ہوتی چلی جائے گی۔و أَنِ اعْبُدُونِي هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيم سیدھی بات یہ ہے میری عبادت کرو سیدھے رستے پر چل پڑو گے کوئی خطرہ نہیں، کوئی وہاں ڈاکہ نہیں، کوئی چورا چکا نہیں آسکتا اور وہ ترقی کی راہ وہ ہے نعمت عَلَيْهِمُ والی۔ان لوگوں کی راہ ہے کہ اے خدا جن پر تو نے نعمتیں نازل فرمائیں۔تو ہر انسان اپنی سر بلندی کے لئے یا نعمتوں کے حصول کے لئے یا رزق میں برکت کے لئے دنیا میں جھک مارتا پھرتا ہے ساری تو جہات ، ساری محنتیں ان چیزوں کے لئے وقف کر رکھی ہیں اور جو آسان سیدھا رستہ خدا نے سمجھا دیا ہے اس پر چل کے دیکھتا نہیں اس وجہ سے کہ یقین کی کمی ہے اور اگر یقین کی کمی ہے تو پھر جس پر یقین زیادہ ہے اس کی عبادت ہوگی جس پر یقین کم ہے اس کی نہیں ہوگی تو یہ شرک کی پہچان کا پیمانہ بن گیا اور اللہ تعالیٰ پر کس حد تک یقین ہے، یہ پہچانا ہو تو اپنے روزمرہ کے رد عمل سے آپ لازما پہچان سکتے ہیں، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس بارے میں کسی قسم کا شک وشبہ باقی رہے۔آگے رحمانیت کا مضمون ہے۔جب بھی آپ بنی نوع انسان کو یا ان میں سے بڑے لوگوں کو رحمان سمجھیں تو جب کوئی مشکل پڑے ان کی چوکھٹ پہ جا کے رحمان، رحمان کی آوازیں دیتے ہیں اور ان سے تعلق بعض دفعہ اس طرح بھی رکھتے ہیں جیسے رحمانیت کا اپنے بندوں سے تعلق ہے یا بندوں کا رحمان سے ہے بن مانگے دینے کا مضمون بھی یہاں بالکل بعینہ صادق آتا ہے۔بہت سے انسان بڑے لوگوں سے اس لئے تعلق نہیں رکھتے کہ ہم ان سے مانگیں گے بلکہ وہ تعلق ہی میں بن مانگے کے فائدے پیش نظر رکھتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ یہ تعلق ایسے ہیں جن کے نتیجے میں فائدہ پہنچنا ہی پہنچنا ہے۔شاہ کا مصاحب بنا ہوا اترا تا پھرتا ہو بڑے لوگوں سے واسطے ہوں ، بڑی چوکھٹوں پر جاتا ہو تو اردگرد کے فوائد سے خود بخود ملتے ہیں ، ضروری نہیں کہ اس سے مانگے۔کوئی آج کل یہ نظر رکھتا ہو کہ نواز شریف صاحب کے محل سے کون نکلتا ہے اور کون جاتا ہے یا اس سے پہلے بھٹو صاحب کے محل سے کون نکلا کرتا تھا اور کون جاتا تھا یہ باتیں اتنی ہی کافی ہیں اس کے لئے اور ایسے لوگوں کی چٹھیاں پھر مچلکوں کی طرح چلتی ہیں۔