خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 192 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 192

خطبات طاہر جلد 16 192 خطبہ جمعہ 14 / مارچ 1997ء ساری ادائیں ہیں جو اس کے دل کا حال بتا رہی ہیں اور ان تصویروں کو پڑھ کر آپ دل کا حال پڑھ سکتے ہیں اور پھر اگر یہ بچہ باہر نکلے گا تو آپ کو پتا ہے کہ یہ محفوظ ہے یا غیر محفوظ ہے۔وہ بچے جو گھروں میں محفوظ نہیں وہ باہر بھی محفوظ نہیں ہوا کرتے۔مگر اس کا علاج یہ نہیں ہے کہ تحکم کے ذریعے اور خشک نصیحتوں کے ذریعے ان کو ٹھیک کرو۔ان کا علاج اس آیت میں ہمیں ایک دعا سکھاتی ہے، اسی میں موجود ہے قُرَّةَ أَعْيُنٍ بنانا ذریت“ کو یک طرفہ ہو ہی نہیں سکتا۔جس قرۃ العین کا ذکر فرمایا گیا ہے یہ آنکھوں کی ٹھنڈک یکطرفہ ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ شرط یہ ہے وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا اب آپ دیکھیں کہ بہت سے ماں باپ ہیں جو اپنے بچوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک پاتے ہیں خواہ جو مرضی کرتے پھریں۔وہ جتنے زیادہ فیشن ایبل ہوں گے، جتنازیادہ لغویات میں مصروف ہوں گے اگر وہ پڑھائی میں اچھے ہوں اور دنیا کمانے کا یقین ہو جائے ماں باپ کو تو ان کی ہر دوسری دلچسپی بھی ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک پیدا کرتی ہے خواہ وہ متقی نہ بن رہے ہوں۔پس قرآن کریم نے جس دلچسپی کا ذکر فرمایا ہے یہ ایسی دلچسپی ہے کہ جس کے نتیجے میں جب تک آپ کو اولاد میں نیکیاں دکھائی نہ دیں قرۃ عین نصیب نہیں ہو سکتی۔پس ایسا تعلق بچوں سے جوڑیں کہ جو ان کے اندر نیکیاں پیدا کرنے والا ہو اور نیکیوں کے با وجود تعلق آپ سے رہے محض دنیاوی طور پر ان کا کچھ حاصل کرنا آپ کے لئے تسکین کا موجب نہ بنے۔یہ پیغام ہے جو اس آیت کریمہ میں ملتا ہے۔اب اپنے گھروں کے تجربوں میں ہراحمدی خاندان اپنا جائزہ لے سکتا ہے کہ ان کے بچے ان کے اندر باوجود ان کے نیک ہونے کے دلچسپی لیتے ہیں کہ نہیں۔یہ پہچان ہے اس بات کی کہ آیا آپ ایسی اولاد پیچھے چھوڑ رہے ہیں جو متقی بنے اور آپ ان کے امام بنے یا نہیں بعض بچے اس طرح پہچانے جاتے ہیں ماں اگر بے پرواہ ہے دین کے معاملات میں اور باپ نیک ہے اور ماں سے بہت تعلق رکھتے ہیں اور باپ سے گھبراتے ہیں اگر ماں نیک ہے اور باپ بے تعلق ہے دین سے تو بعض بچے ہیں جو باپ کی طرف دوڑتے ہیں اور ماں کی پرواہ نہیں کرتے اور ایسی مائیں بے چاری روتی پیٹتی رہ جاتی ہیں کہ ہائے کیا ہو گیا تجھے ، نیکی کی طرف آ، کیا ہو گیا ہے اپنے باپ کی بدیوں کی طرف تو جارہا ہے، میری نیکیوں کی طرف نہیں آتا اور یہ روزمرہ کی حقیقتیں ہیں۔آپ میری ایک دن کی ڈاک دیکھ لیں آپ کو سمجھ آجائے گی۔کثرت سے اس مضمون