خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 193
خطبات طاہر جلد 16 193 خطبہ جمعہ 14 / مارچ 1997ء کے خط ملتے ہیں۔کبھی باپ کی طرف سے رونا، کبھی ماں کی طرف سے رونا۔باپ کہے گا ماں کو دنیا میں دلچسپیاں ہیں، نماز نہیں پڑھتی ، فلاں کام نہیں کرتی اور ہماری اولا د جو ہے وہ انہی کی طرف بھاگی جا رہی ہے، میں آتا ہوں اور سر پیٹ کے رہ جاتا ہوں مگر میرے دکھاوے کے لئے کچھ کر لیں گے، میں نے پیٹھ پھیری تو پھر وہی حرکتیں۔بعض مائیں روتی ہیں کہ باپ بڑا ظالم ہے ، دین میں کوئی دلچسپی نہیں، نماز تک نہیں پڑھتا اور میرے بچے باپ کے پیچھے لگ گئے ہیں اور میری کوئی حقیقت ہی نہیں، میں تو پرانے زمانے کی عورت بن کے یہاں رہ گئی ہوں۔تو یہ وہ چیزیں جن کے نتیجے میں اس دعا کا اطلاق ہو ہی نہیں سکتا، کر کے دیکھ لیں۔نہ خاوند بیوی کے لئے ٹھنڈک بنے گا ، نہ بیوی خاوند کے لئے ٹھنڈک بنے گی۔نہ اولا دان ماں باپ کے لئے ٹھنڈک بنے گی ، نہ ماں باپ اولاد کے لئے تو اس دعا نے ایک ایسا رشتہ ہمیں سکھایا ہے جو بالکل صاف روزمرہ کی زندگی میں پہچانا جاتا ہے۔لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا کی دعا تب پوری ہو سکتی ہے اگر ماں باپ نیک ہوں اور اولادکوان کی نیکی کے باوجود ان سے پیار ہو بلکہ نیکی کی وجہ سے پیار ہو۔جتنا ماں باپ میں نیکی دیکھیں اتنا ہی احترام بڑھتا جائے ، اتنا ہی ان سے محبت بڑھتی جائے اگر یہ بات ہو تو پھر آپ یقین کے ساتھ جان دے سکتے ہیں کہ ہم اپنی اولاد کا تقویٰ دیکھ کے مر رہے ہیں۔اگر یہ نہیں تو آپ کی زندگی موت بن جائے گی، آپ اپنے بچوں کی آنکھوں میں پڑھ نہیں سکتے کہ آپ نمازیں پڑھتے ہیں تو وہ یوں کر کے دیکھتے ہیں کوئی دلچسپی نہیں ، اور جب ان کے ساتھ بیٹھ کر کوئی دلچسپ پروگرام دیکھیں تو کس طرح وہ آپ کے ساتھ چمٹ جاتے ہیں۔تو انسان غافل بننا چاہے تو غافل ہو جاتا ہے مگر یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے پتا نہیں چلا۔ایسا نظام فطرت خدا نے بنایا ہے کہ ہر انسان اپنا حال پڑھ سکتا ہے، اپنا واقف ہے بہانے خواہ لاکھ تراشے، جانتا ہے کہ کیا ہورہا ہے۔پس اس دعا پر غیر معمولی اہمیت دینے کی ضرورت ہے اس لئے میں یہاں آکر ٹھہر گیا ہوں اور یہ میری نیت تھی کہ اس کے ہر پہلو کو آپ کے سامنے کھول کے رکھوں۔اپنی اولاد کے لئے اگر آپ نے یہ دعامانگنی ہے، اپنی بیویوں کے لئے دعا مانگنی ہے تو دیکھیں وہ دعا قبول ہو رہی ہے کہ نہیں۔اگر بیویوں کو آپ کی نیکیوں سے محبت ہو رہی ہے اور نیکیاں بڑھنے کے نتیجے میں وہ اور زیادہ آپ سے پیار کرنے لگی ہیں تو پھر آپ کی دعا قبول ہو رہی ہے۔اگر بیویوں کے خاوندوں کو اپنی بیویوں کی نیکیوں