خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 191
خطبات طاہر جلد 16 191 خطبہ جمعہ 14 / مارچ 1997ء جائے تو گھر قبرستان ہو جائے گا۔لوگ گھروں کو لوٹتے ہیں، بڑی ہی تھکی ہوئی نگاہوں کے ساتھ اور بوجھل دلوں کے ساتھ کہ اچھا یہ رات کاٹنی ہے کا ٹو، صبح پھر باہر جائیں گے اور بچے سکولوں سے آکر گھروں میں کتابیں پھینکتے ہیں کچھ پڑھنا ہے پڑھیں گے اور توجہ یہ ہو کہ بعد میں فلاں ٹولی کے ساتھ باہر نکلیں گے، فلاں کے ساتھ وہاں کھیلوں میں جائیں گے۔بہر حال اکثر آج کل کی سوسائٹی میں گھر محبتوں کے مرکز نہیں رہے اور جس حد تک یہ گھر محبتوں میں مرگئے ہیں اسی حد تک زندگیاں باہر جا چکی ہیں اور زندگی کی تلاش میں انسان کو باہر نکلنا پڑتا ہے۔پھر کچھ لوگ ہیں جن کی زندگیاں محض لغویات سے وابستہ ہیں مگر گناہوں سے نہیں۔تبھی قرآن کریم نے لغویات اور گناہوں میں فرق کر کے دکھایا ہے پہلے فرمایا کہ وہ زنا نہیں کرتے ، بدکاریوں میں مبتلا نہیں ہوتے ، پاک دامن رہتے ہیں اور پھر اس سے اگلا قدم یہ فرمایا کہ لغو سے بھی پرہیز کرتے ہیں تو یہ ایک سلسلہ ہے۔ایک قدم ایک طرف اٹھتا ہے تو پھر آگے دوسری طرف اٹھتا ہے اور واپسی بھی اسی طرح شروع ہوتی ہے۔پس اگر گناہوں سے تو بہ کرنی ہو اور سخت محسوس ہو تو کچھ دوسری دلچسپیاں بڑھانی ہوں گی جو لغو کی گندی قسمیں نہ ہوں جن کو خدا تعالیٰ بعض صورتوں میں خود بھی آگے بڑھاتا ہے مثلاً صحت مند کھیلیں ہیں۔ایک پہلو سے وہ لغو ہیں مگر ایک اور پہلو کے ساتھ وہ صحتمند ہیں، فائدہ مند ہیں اور قرآن کریم نے ان کی طرف توجہ دلائی ہے مختلف پہلوؤں سے۔تو کھیلوں میں دلچپسی بچوں کی پیدا ہو جائے تو وہ بھی باہر جائیں گے مگر وہ اس قسم کے بچے نہیں ہیں جو گندے تعلقات کی وجہ سے باہر نکلتے ہیں۔تو اس لئے ماں باپ کو یہ تو نظر رکھنی چاہئے کہ بچے باہر جاتے ہیں تو کہاں جاتے ہیں مگر یہ نظر آج کے زمانے میں رکھی جا نہیں سکتی جب تک ان کے دلوں کی دلچسپیوں پر نظر نہ ہو۔اس لئے یہ ناممکن ہے کہ ہر ماں باپ اپنی بچیوں کے ساتھ ان کے سکول جائیں اور وہیں بیٹھے رہیں جو جب اپنے دوستوں کے ساتھ دوسری کھیلوں یا مشاغل میں مصروف ہوں تو ان پر نظر رکھیں ، یہ ناممکن ہے۔تو پھر اس دعا کی تائید میں کیا عمل ہے جو اس دعا کو تقویت دے سکتا ہے وہ میں آپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ہر بچے کی دلچسپی پر نظر رکھیں اور وہ دلچپسی گھروں سے دکھائی دیتی ہے۔یہ ناممکن ہے کہ بچہ گھر میں پہچانا نہ جائے۔اس کا اٹھنا بیٹھنا ، اس کی ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں دلچسپیاں، اس کی کتابیں خریدنا، اس کی تصویر میں بنانا، اپنی دیواروں پہ تصویریں لٹکانا یا کچھ ماٹو بنا کر لکھتے رہنا، یہ