خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 190 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 190

خطبات طاہر جلد 16 190 خطبہ جمعہ 14 / مارچ 1997ء دوسرا اس سے پہلے گزرا تھا ، لغو سے وہ پر ہیز کرتے ہیں، اس سے پہلے یہ ذکر گزرا ہے کہ وہ بد کاری نہیں کرتے اور اپنا دامن پاک رکھتے ہیں اس کی حفاظت کے لئے بھی یہ دعا ہے کیونکہ اگر ایک انسان کی توجہ گھر کی طرف ہو اور بیوی کو خاوند سے تسکین قلب ملے ، خاوند کو بیوی سے تسکین قلب ملے اور اولا دا یک نعمت کے طور پر اس کے ارد گر در ہے تو ایسے گھر میں بدکاری نہیں پیدا ہوتی۔آج کل کے زمانے کا علاج اس دعا میں ہے جہاں بھی بد کاری بڑھتی ہے وہاں اس دعا کے منفی اثرات دکھائی دیں تو بڑھتی ہے یعنی اس دعا میں جو خوبیاں بیان فرمائی گئی ہیں ان کا جو بر عکس ہے وہ اگر پایا جائے تو لازماً وہاں فحاشی ، بدکاری، لغویات پھیل جائیں گی۔پس آج کل کے زمانے میں جو گھر ٹوٹ رہے ہیں آج کل کے زمانے میں جو لذتوں کے مرکز گھروں سے نکل کر باہر جاچکے ہیں اس کی وجہ اسی دعا کے مضمون کا فقدان ہے۔یہ تجربہ شدہ حقیقت ہے کہ جو عور تیں اپنے خاوندوں کی وفادار رہتی ہیں ، جو خاوند اپنی بیو یوں کے وفادار رہتے ہیں، جن بچوں کے ساتھ ان کا تعلق پیار اور محبت کا ایسا رہتا ہے کہ گھر ہی ان کی لذتوں کا مرکز بن جائے یہ ساری قوم کے اخلاق کی حفاظت کا مرکزی نقطہ ہے۔جہاں گھروں میں یہ تعلقات کم ہو جائیں یا مٹ جائیں وہاں تمام لذتیں گھروں سے باہر نکل جاتی ہیں کیونکہ لذتوں کے بغیر انسان رہ ہی نہیں سکتا۔یہ جھوٹ ہے کہ ایسا متقی ہو کہ بالکل نفس مار کے بیٹھ جائے۔ایسا متقی خشک مولوی بن جائے گا لیکن متقی نہیں بن سکے گا۔تقویٰ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ یا طمع رکھی ہے یا خوف رکھا ہے۔سارا قرآن پڑھ لیں اس کے بغیر تقویٰ کا ذکر نہیں ملے گا آپ کو۔خوف میں بھی ایک ہیجان ہے اور موت کا مضمون خوف میں دکھائی دے نہیں سکتا کیونکہ خوف سے انسان مضطرب ہو جاتا ہے اور موت ساکت و جامد ہونے کا نام ہے اور طمع بھی انسان کو مضطرب کرتی ہے، ایک ہیجان بر پا ہو جاتا ہے۔اگر آپ کو یہ پتا ہو کہ کوئی فائدہ آپ کو کسی سے ملنے والا ہے تو جتنا وہ وقت قریب آئے گا آپ کا دل اور زیادہ ہیجان پکڑتا چلا جائے گا۔پس تقویٰ کا تعلق خوف سے اور طمع سے ہے اور قرآن کریم یہی مضمون کھولتا چلا جا رہا ہے تو اس لئے یا درکھیں کہ گھروں میں اگر انسان کی طمع ہو اور سکون وہاں آ جائے اور یہ خوف رہے کہ ہماری اولادیں ضائع نہ ہو جائیں تو وہ گھر ہی ہمیشہ آپ کی توجہ کا مرکز بنا رہے گا۔یہاں سے آپ کی توجہ پھر