خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 189 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 189

خطبات طاہر جلد 16 189 خطبہ جمعہ 14 / مارچ 1997ء پس آنحضرت میوہ کے حوالے سے جب آپ یہ دعا کرتے ہیں تو ایک نئی ذمہ داری پیدا ہو جاتی ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی میں کہ ہمیشہ یہ دعا کرتے رہے اور آپ کی یہ دعا ہمارے حوالے سے قبول ہوئی ہے کہ نہیں، یہ سوال اٹھتا ہے۔کیا ہم پر بھی آنحضور ﷺ ی تسکین کی نظر ڈال سکتے ہیں کہ میری دعا ان لوگوں کے حق میں بھی قبول ہوگئی جو میرے چودہ سو سال بعد پیدا ہوئے اور عجیب سلسلہ ہے مقبولیت کا جو قیامت تک جاری و ساری رہے گا اور خدا تعالیٰ مجھے ان لوگوں میں سے بھی متقی عطا کر رہا ہے یعنی روحانی ذریت متقیوں کے بعد متقی پیدا کرتی چلی جاتی ہے تو اس پہلو سے جوذ مہ داریاں ہیں وہ بڑھ بھی جاتی ہیں ان میں ایک خاص لذت بھی پیدا ہو جاتی ہے یعنی ادا ئیگی فرض ، فرض سمجھ کے بھی ہوتی ہے لیکن ادائیگی فرض میں اگر پیار کا تعلق قائم ہو جائے ، انسان کو ذاتی دلچسپی اس کام میں ہو تو پھر وہ فرض محض ایک فرض کی ادائیگی نہیں بلکہ ایک دلی تمنا کا پورا ہونا بن جاتا ہے، اپنی خواہش کو پورا کرنے میں جو مزہ ہے وہ فرض کی ادائیگی میں پیدا ہو جاتا ہے۔پس دعاؤں کے مضمون کو جتنا آپ گہری نظر سے دیکھیں ، پھیلائیں اتنا ہی دعاؤں میں لذت بڑھتی ہے اور اگر دعا میں لذت بڑھ جائے تو دعا مقبول بھی ہوتی ہے۔یہ ایک قطعی غیر مبدل حقیقت ہے کہ دعا میں جب تک کوئی لذت نہ ہو اس وقت تک دعا مقبول ہو نہیں سکتی اور لذتیں دو قسم کی ہیں ایک خوشی کی لذت ہے ایک غم کی لذت ہے۔پس اس پہلو سے یہ خوشی کی لذت ہے جو پیدا کر رہی ہے بہت ہی مزے کا مضمون ہے۔اچھے خاوند، اچھی بیویاں ،ایک دوسرے سے پیار کرنے والی اللہ ان کے ساتھ تعلقات میں پاکیزگی بھی پیدا کرے، وفا بھی پیدا کرے، ان سے دل ٹھنڈے ہوں لیکن دل ٹھنڈے ہونے کا آخری نقطہ معراج یہ ہو کہ انسان اس یقین کے ساتھ جان دے کہ میرے پیچھے نیک اولاد میں رہ گئی ہیں اور پھر نئی لذت اس میں اس بات سے پیدا ہوتی ہے کہ ہم نیکوں کی اولاد تھے، نیکوں کی اولا دبنے کے مستحق بھی ٹھہرے کہ نہیں۔کس باپ کے بیٹے ، کس دادا کے پوتے اور پھر جب مضمون آگے بڑھتا ہے تو آنحضرت یہ کی آنکھیں بھی ٹھنڈی ہو سکتی ہیں کہ نہیں۔تو اولاد کی تربیت آپ کرتے ہیں ، آپ کے آباؤ اجداد آپ کی تربیت کرتے ہیں خواہ وہ موجود ہوں یا نہ ہوں۔پس اس دعا کا تعلق مستقبل سے بھی ہے، ماضی سے بھی ہے اور جتنا گہری سوچ کے ساتھ آپ یہ دعا صل الله کریں گے اتنا ہی زیادہ یہ فائدہ بخش بھی ہوگی اور لذتیں بھی عطا کرے گی۔