خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 154
خطبات طاہر جلد 16 154 خطبہ جمعہ 28 فروری 1997ء امانت بخشش کی راہ میں حائل ہو جاتی تھی۔یہ وہ مضمون ہے جس کو سمجھانے کی خاطر آنحضرت ﷺ کو اپنی نمائندگی میں یہ حق دیا کہ تو کہہ دے میرے بندو۔اب یہ دو باتیں آنحضرت ﷺ کی سیرت کا ایک اتنا نمایاں پہلو ہیں کہ اس کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں بہت سے لوگ ٹھو کر کھا جاتے ہیں۔آنحضور ﷺ اپنے نفس کے معاملے میں اتنے رحیم تھے کہ آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا۔وہ غلام جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ان کی روایات آپ پڑھیں تو آپ حیران رہ جائیں گے۔بارہا غلطیاں کیں، بارہا وعدے کئے اور نہیں پورے ہو سکے۔رسول اللہ سے کسی کام پہ بھجواتے ہیں اور صلى الله جا کے کھیل میں لگ جاتا ہے وہ کام بھول جاتا ہے مگر حضور ا کرم کہ خود آتے ہیں پوچھتے ہیں کیا ہوا تھا اور کوئی سرزنش نہیں۔خود کام کرتے ہیں۔اپنی ازواج مطہرات سے جو آپ کا حسن سلوک ہے وہ رحیمیت اور رافت دونوں کا ایک ایسا نمونہ ہے کہ دوسرے انسان میں دکھائی نہیں دیتا۔مگر جہاں مالک تھے اپنے معاملات کے وہاں بخشش بے انتہا، جہاں خدا کی طرف سے نمائندہ تھے اور امین تھے وہاں یہ فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ ڈالتا۔یہ وہ حیرت انگیز مضمون ہے جو آنحضرت ﷺ کی سیرت کے حوالے کے بغیر سمجھا ہی نہیں جا سکتا۔خدا تعالیٰ بھی اس لئے رؤف رحیم اور بے مثال رؤف رحیم ہے کہ ہر چیز کا مالک ہے۔پس آنحضرت ﷺ اس حد تک رستہ دکھاتے ہیں کہ جو آپ کے قبضے میں چیز تھی، جس کے آپ مختار تھے اس میں بے انتہا رحم کیا ہے، بے حد بخشش سے کام لیا ہے۔جس میں خدا مالک تھا آپ نے کوئی تصرف نہیں کیا، ادنی سا بھی تصرف نہیں کیا۔مگر اللہ مالک ہے اس لئے محمد رسول اللہ ﷺ پر انسان ٹھہر سکتا ہی نہیں کیونکہ ایک ایسے مالک کی طرف آپ کو بلایا جارہا ہے جو ہر قسم کے گناہ بخش سکتا ہے۔آنحضرت ﷺ کے اختیار میں جتنے تھے وہ آپ نے بخش کے دکھا دئیے جو اختیار میں نہیں تھے وہ خدا سے ملے بغیر بخشے جاہی نہیں سکتے۔اس لئے محمد رسول اللہ ﷺ کا نمونہ وہاں تک دکھایا جہاں تک انسانی اخلاق ترقی کر سکتے ہیں اور اس کے بعد جب اللہ کی حد شروع ہو جاتی ہے وہاں آپ اس مقام پر ٹھہر جاتے ہیں اور بندوں کو خدا کے سپر د کر دیتے ہیں۔پس اپنے پاس آپ نے کسی بندے کو روکا ہی نہیں۔ہر بندہ جو آپ کا بندہ بنا اس کو خدا کے سپرد کیا اور اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیا اور وہ لوگ پھر عِبَادُ الرَّحْمنِ (الفرقان: 64) بن گئے۔چنانچہ جہاں ایک طرف یہ فرمایا عِبَادِی وہاں دوسری طرف عباد الرحمن کی صفات بیان فرمائی ہیں کہ