خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 153 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 153

خطبات طاہر جلد 16 153 خطبہ جمعہ 28 فروری 1997ء کو کہ دو کہ اے میرے بندو خدا کی رحمت سے نومیدمت ہو خدا تمام گناہ بخش دے گا۔اب دیکھواس جگہ یا عباد اللہ کی جگہ يُعِبَادِی کہہ دیا گیا حالانکہ لوگ خدا کے بندے ہیں نہ آنحضرت ﷺ کے بندے مگر یہ استعارے کے رنگ میں بولا جاتا ہے۔ان امور پر غور کرتے ہوئے جو ایک حقیقت انسان کے سامنے ابھرتی ہے یا ابھرنی چاہئے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے غلام کے معنوں ہی میں استعمال کیا ہو آنحضرت ﷺ کو یہ کیوں فرمایا کہ تو ان سے کہہ دے میرے بندو۔اس کلام میں اشتباہ کا ایک خطرہ تو بہر حال رہتا تھا تو ضرورت کیا تھی ، اس میں حکمت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے اپنے بندوں کو آپ کے سپر د اس طرح کر دیا کہ وہ مخاطب کرتے ہوئے یہی لفظ بولیں کہ اے میرے بندو۔اصل بات یہ ہے کہ جو وعدہ کیا جارہا ہے وہ بہت بڑا ہے اور گنہگاروں کو جب مخاطب کیا جا رہا ہو کہ تم خدا کی بخشش سے مایوس نہ ہو تو جتنا بڑا گنہگار اتنا ہی خدا کے تصور سے دور۔اب اس کو ایک فرضی بات پر یقین کیسے آئے گا، یہ تو ناممکن ہے نہ اس نے خدا د یکھانہ سنا، نہ اس سے کبھی دل میں تعلق پیدا ہوا۔اب بعض دفعہ کسی صدمے کے نتیجے میں ، بعض دفعہ ویسے ہی اللہ تعالیٰ دل کی آنکھیں کھول دیتا ہے کہ اس کو توجہ پیدا ہو اور وہ کہے کہ میں نے خدا تعالیٰ سے بخشش مانگنی ہے تو کس خدا سے کس حد تک بخشش کی امید رکھ سکتا ہے۔جب تک کوئی نمونہ سامنے نہ ہو انسان اس بات پر ایمان نہیں لاسکتا۔پس آنحضرت ﷺ وہ ظاہری نمونہ تھے بخشش کا جس سے بڑھ کر بخشنے والا اور رحم کرنے والا کوئی انسان کبھی پیدا نہیں ہوا۔آپ کی ساری زندگی ایک بخشش کا اتناعظیم اور پاک نمونہ تھی کہ انبیائو کی زندگی کو بھی آپ گہری نظر سے دیکھیں، جانچیں، تلاش کریں، مگر آپ کو آنحضرت ﷺ جیسا وجود انبیاء کے زمرے میں بھی کہیں دکھائی نہیں دے گا یعنی اس شان کا وجود۔رحمت اور بخشش کا آپ ایسا کامل نمونہ تھے کہ اللہ تعالی قرآن کریم میں آپ کے متعلق فرماتا ہے بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمُ (التوبه: 128 ) وہ مومنوں کے لئے خدا تعالیٰ کی دوصفات کا ایسا مظہر تھا کہ گویا اللہ تعالیٰ نے وہ صفات اس کو عطا کر دیں۔رَءُوفٌ بے انتہاء رافت کرنے والا اور شفقت کرنے والا اور رحیم بار بار رحم کرنے والا۔ایک دفعہ غلطی ہوئی ، دوسری دفعہ ہوئی، تیسری دفعہ ہوئی پھر رحم کرنے والا اور ذاتی معاملات میں گناہ بخشنے والا مگر اللہ کے معاملات میں اس کی