خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 155 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 155

خطبات طاہر جلد 16 155 خطبہ جمعہ 28 فروری 1997ء اب یہ بندے جو محمد رسول اللہ اللہ کے بندے تھے یہ رکے نہیں جب تک عِبَادُ الرَّحْمٰنِ نہ بن گئے ہوں اور جب اللہ کے، رحمان کے بندے بن جائیں پھر ان کی کیا کیا شان ظاہر ہوتی ہے وہ ساری باتیں ان آیات میں بیان فرمائی گئی ہیں۔تو عباد کا جو مضمون ہے قرآن کریم کے حوالے سے وہ میں آپ کے سامنے مزید کھولوں گا مگر یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اقتباس میں نے آپ کو پڑھ کے سنایا ہے اس میں یہی بات بیان فرمائی گئی ہے کہ آنحضرت مﷺ ایک وسیلہ تھے جو خدا کے بندوں کو بندہ بنا بنا کے اپنے آقا کے سپر د کر تے تھے تو ان بندوں کا جو خدا کے بندے کہلاتے ہیں پہلے بندہ بننا تو ثابت ہو اس کے بغیر وہ کیسے بخشش کے طلبگار ہو سکتے ہیں۔اس سلسلے میں قرآن کریم نے جو مختلف مضامین بیان فرمائے ہیں میں ان کو آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔انابت کے متعلق میں نے عرض کیا تھا کہ اس میں دراصل محبت کا بھی مضمون ہے اور انابت کے نتیجے ہی میں دراصل انسان گناہوں پر قابو پاسکتا ہے اور انابت کے نتیجے ہی میں اس دنیا میں عذاب سے مخلصی ہو سکتی ہے اور یہ مضمون بہت گہرا اور لازمی ہے اس کو سمجھے بغیر آپ بخشش کی اور آئندہ زمانے یعنی مرنے کے بعد کی امیدیں قائم نہیں کر سکتے۔ان امیدوں پر آپ کو یقین نہیں آسکتا کیونکہ جب تک اس دنیا میں انابت کے نمونے آپ کے سامنے نہ ہوں اس وقت تک اس دنیا میں کیا ہوگا اس کے متعلق آپ کوئی یقین نہیں کر سکتے۔تو اس کے لئے ایک تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے حوالے سے ہمیں یہ مضمون سمجھایا دوسرا روز مرہ کے تجربے سے بھی خدا تعالیٰ اسی مضمون کی طرف توجہ دلاتا ہے۔فرمایا: أَفَلَمْ يَرَوْا إِلَى مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنْ نَّشَأْنَخْسِفَ بِهِمُ الْأَرْضَ اَوْنُسْقِطَ عَلَيْهِمْ كِسَامِنَ السَّمَاءِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَا يَةٌ لِكُلِّ عَبْدِ مُّنِيبٍ (سبا: 10) وہاں بھی عبد اور انابت کا ذکر تھا عبد بنو اور منیب بنو اور اس آیت میں بھی عبد اور منیب بننے کا ذکر ہے اور مضمون یہی ہے کہ تمہیں عذاب سے اگر نجات چاہئے تو عبد منیب بن کے دیکھو خدا تمہیں کس