خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 93
خطبات طاہر جلد 15 93 خطبہ جمعہ 2 فروری 1996ء کبھی ویسے توفیق نہیں پاتے ، گھر میں بھی نماز پڑھنے کی توفیق نہیں پاتے وہ بھی مسجدوں کی طرف دوڑتے ہیں۔تو اس سے پہلے پہلے باتوں کو سمجھ لیں ورنہ افراتفری میں کچھ بھی کمائی نہیں ہوتی۔آپ سمجھ رہے ہوں گے بڑا مزہ آیا بڑا جوش و خروش ہے لیکن بعد میں جب حساب کریں گے تو ہاتھ پلے کچھ بھی نہیں ہو گا۔اس لئے ہاتھ پلے کچھ اگر رکھتا ہے تو خدا کو کمائیں اس طرح کمائیں کہ وہ قریب دکھائی دینے لگے اور ایسا قریب ہو کہ اس کی قربت کے اثرات آپ کی ذات میں ظاہر ہوں۔اگر وہ اثرات ظاہر نہیں ہوں گے تو وہ قریب نہیں ہے۔اگر وہ اثرات ظاہر نہیں ہوں گے تو آپ کا ایمان اسی طرح خالی ہے جیسے پہلے تھا۔پس یہ تو اتنا واضح کھلا کھلا مضمون ہے کہ جیسے ایک دکاندار سارے دن کی محنت کے بعد رات کو بہی کھاتے لے کر بیٹھ جاتا ہے اور جمع تفریق کرتا ہے اور جانتا ہے کہ مجھے یہ فائدہ ہوا اور نقصان ہوا۔پس رمضان کے دوران ہر رات اپنا ایک بہی کھاتہ کھول لیا کریں اور غور کیا کریں کہ خدا کو آپ نے پایا بھی ہے کہ نہیں۔اس طرح کا پانا ایک فرضی بات ہے کہ اب میرا خدا ہو گیا بس چھٹی ہوگئی۔یہ پانا جو ہے انچ انچ لمحہ بہ لمحہ اس کی طرف بڑھنا اسے اپنا نا ہوگا اور یہ اگر سفر آپ سیکھ لیں قرب کے یہ معنی آپ سمجھ جائیں ان معنوں کے مطابق اللہ کے قریب ہونا شروع ہوں تو اس رمضان کے آخر تک ہم یقین سے کہ سکیں گے کہ اب خدا ہمارے اس سے زیادہ قریب ہے جتنا پچھلے سال رمضان کے آخر پر تھا اور یہ جو قرب ہے یہ پھر واپس نہیں ہوا کرتا۔نیکیاں اور نیکیوں کے جذبے بڑھتے بھی ہیں کم بھی ہو جاتے ہیں مگر قرب جس کی بات میں کہہ رہا ہوں اس میں کبھی کوئی کمی نہیں آتی۔وہ ایک دائمی حقیقت ہے اور اسی کا دوسرا نام روح القدس ہے۔روح القدس ایک زندہ حقیقت بھی ہے لیکن ہر انسان کو جو روح القدس نصیب ہوتی ہے وہ اس طریق پر نصیب ہوتی ہے کہ اس کا ساتھ دائمی ہوا کرتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے بھی روح القدس کو اسی معنی میں سمجھا۔اسی معنی میں بیان فرمایا اور قرآن کریم نے اس مضمون کو خوب کھول دیا ہے کہ روح القدس ایک ایسی برکت ہے جو آکر پھر جایا نہیں کرتی۔کہیں قرآن کریم میں اشارہ بھی یہ نہیں بیان فرمایا کہ روح القدس آکر چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔وہ ساتھ رہنے والی حقیقت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلو والسلام نے بھی روح القدس کو اسی معنی میں وضاحت کے ساتھ ہمارے سامنے رکھا ہے کہ یہ تو ایک دائمی برکت ہے۔پس خدا تعالیٰ کا قرب ایسا جو آ کر ٹھہر جائے ٹھہر ان معنوں میں نہ جائے کہ بڑھے نہیں بلکہ ان معنوں میں ٹھہر جائے