خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 94 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 94

خطبات طاہر جلد 15 94 خطبہ جمعہ 2 فروری 1996ء کہ آپ کے گھر کا ہو چکا ہو اور پھر آپ کو یہ خطرہ نہ ہو کہ یہ مجھے چھوڑ کر چلا جائے گا۔اتنا خدا آپ کمالیں کہ پھر جو مستقلاً آپ کا ضرور ہو چکا ہو۔یہ ہے قرب الہی تا کہ اتنے حصے پر تو جب بھی ہاتھ بڑھا ئیں آپ کا ہاتھ پڑ جائے ، آپ دیکھ لیں ٹولیں کہ ہاں یہ ہے۔پس یہ وہ معنی ہیں قرب کے جن معنوں کی طرف متوجہ کر کے میں آپ کو بقیہ رمضان میں دعاؤں کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔اپنے لئے دعا کریں اور ہر روز یہ پہچان کرنے کی کوشش کریں کہ آپ نے خدا کو کس حد تک پایا ہے کہ نہیں پایا اور کیا اس حد تک پایا ہے کہ وہ آپ کا اپنایا گیا ہے اور اگر اس حد تک نہیں پایا تو پایاہی نہیں۔یہ بالکل جھوٹ ہے کہ کوئی یہ سمجھے میں نے خدا کو پایا تو تھا مگر وہ چھٹ گیا، جاتا رہا کیونکہ خدا کی حقیقت ایک حسن ہے اور ایسا کامل حسن ہے کہ پھر اسے چھوڑا جا سکتا ہی نہیں۔تو اس خدا کو پائیں جو حسن کامل ہے جو دور سے بھی دکھائی دیتا ہے اور غیروں کی نظروں سے بھی دکھائی دیتا ہے مگر قریب سے بھی دکھائی دیتا ہے اور اپنی نظر سے بھی دکھائی دیتا ہے اور اپنی نظر سے دکھائی دیتا ہے تو رگ جان سے بھی قریب تر ہو جاتا ہے۔یہ معنی ہے قرب الہی کا جو پھر کبھی بے وفائی نہیں کرتا، کبھی چھوڑ کر نہیں جا تا۔رگ جان سے قریب تر ہو گیا تو کیسے ممکن ہے کہ آپ زندہ رہیں اور وہ چھوڑ کر چلا جائے۔رگ جان چھٹے گی تو پھر وہ خدا چھٹے گا اور رگ جان کا رشتہ کٹا تو موت واقع ہوگئی تو خدا تو اس سے بھی قریب تر ہے۔پس یہ دوام ہے قرب الہی کا جس کی طرف اس آیت کریمہ میں بھی اشارہ فرمایا گیا ہے کہ خدا تمہارا ہوگا لیکن جب بھی ہوگا ، جتنا بھی ہو گا تب تمہارا ہو گا اگر وہ تمہارا ہو چکا ہو اور پھر کبھی تمہیں نہ چھوڑے یعنی تم پھر کبھی اس کو چھوڑ نہ سکو۔چھوڑو تو تمہاری جان اس چھوڑنے میں جائے۔یہ وہ مضمون ہے جس کو آپ سمجھ کر رمضان میں اپنی نگرانی کریں اور اپنی دعاؤں میں یہی باتیں مانگیں جس طرح ظفر نے کہا ہے: اسے چاہا تھا میں نے کہ روک رکھوں مری جان بھی جائے تو جانے نہ دوں کئے لاکھ فریب کر وڑ فسوں ، نہ رہا ، نہ رہا ، نہ رہا، نہ رہا تو دنیا کے محبوب تو ایسے بھی ہوتے ہیں ، انسان چاہے بھی پیار ہو جائے عشق ہو جائے واقعہ یہ چاہتے ہوں کہ ”میری جان بھی جائے تو جانے نہ دوں“ مگر جب (بہادرشاہ ظفر )