خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 92 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 92

خطبات طاہر جلد 15 92 92 خطبہ جمعہ 2 فروری 1996ء حق ادا کرے، ان کا حساب دے سکتا ہو تو ہر شخص سے ایک خوبصورت وجود رونما ہو گا جو ایک خلق آخر کہلائے گا اور یہی خلق کمانا ہے۔اس مضمون کو سمجھے بغیر آپ خلیق بن ہی نہیں سکتے ، خلق کما ہی نہیں سکتے۔پس صلاحیتیں سب کو بخشی گئی ہیں لیکن یہ مضمون ہے فَلْيَسْتَجِيبُوا لِی کہ خلق کمانے کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ اللہ کی رضا کی خاطر اپنی رضا کی گردن اس کے سامنے جھکا دیں اور اس سے بہتر خلق کمانے کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔جب رضائے باری تعالیٰ کی خاطر آپ ایک کام کرتے ہیں تو قطع نظر اس کے کہ آپ کو خلق کی تعریف آتی بھی ہے کہ نہیں آتی آپ خلیق ہورہے ہوں گے۔دن بدن آپ زیادہ با اخلاق ہوتے چلے جائیں گے۔پس اس کے لئے کسی علم کی بھی ضرورت نہیں ہے۔یہ ہے لطف کی بات جو اس آیت میں ہمیں سمجھائی گئی ہے کہ جس سے پوچھا ہے اس کی پھر ادا ئیں بھی تو سیکھو۔یہ منہ سے کہہ دینا تو آسان ہے کہ قرب الہی ، خدا ہر جگہ ہے ہم ہر وقت خدا کے قریب ہیں تو اب جس سے پوچھ بیٹھے ہو اب اس کی ادائیں بھی دیکھنی ہوں گی تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ قریب ہے تو کن معنوں میں قریب ہے۔ان معنوں میں قریب ہے کہ ہمہ وقت ، ہرلحہ محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہو رہا ہے ایک لمحہ بھی جدائی کا نصیب نہیں ہوا اور اس لئے ہوا ہے کہ ہرلمحہ حضرت محمد ہو نے استجابت سے کام لیا ہے یعنی خدا کی باتوں پر لبیک اللهم لبیک “ کہا ہے۔اپنے سارے وجود کو ایک سواری جس طرح اپنے آپ کو سوار کے حضور پیش کرتی ہے آپ نے اللہ کی رضا کو اپنی جان پر سوار کر لیا اور اس سواری کے خوب حق ادا کئے۔یہ کرو گے تو پھر وَلْيُؤْمِنُوالی پھر تمہیں ایک عجیب ایمان نصیب ہوگا۔ایک ایسا عرفان نصیب ہوگا کہ اس وقت تم کہو گے کہ ہیں، ہیں! ہم تو یو نہی سوئے ہوئے تھے۔جاگے تھے تو خواب ہی میں جاگے تھے ،اب صلى الله پتا چلا ہے کہ خدا ہے کیا ؟ اب سمجھے ہیں کہ قرب اس کو کہتے ہیں۔پس قرب کی خاطر اس مہینہ میں جب خدا قریب تر آیا ہوا ہے یعنی ہماری پہنچ کے نزدیک ہے اب اسے ایسا پکڑ لیں کہ پھر وہ سارا سال اس سے پیچھے نہ ہٹ سکے۔یہ وہ بات ہے جس کی طرف میں آپ کو خصوصیت سے متوجہ کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اگلا جمعہ جو آئے گا اس وقت تک رمضان اپنے نصف سے پلٹ کر دوسرے نصف کی طرف ڈھل چکا ہو گا اور اس سے اگلا جمعہ جو آئے گا تو عین ان راتوں میں آئے گا جب کہ سب کو ليْلَةُ الْقَدْرِ کی تلاش ہوتی ہے گہما گہمی ہوتی ہے، مسجد میں بھر جاتی ہیں وہ نمازی بھی جو