خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 91
خطبات طاہر جلد 15 91 خطبہ جمعہ 2 فروری 1996ء خلق کے بدلے کوئی قربانی کرتے ہیں اور خلق نام ہے مسلسل قربانی کا۔مسلسل ایثار کے بغیر آپ کو خلق کا معنی سمجھ آہی نہیں سکتا۔ایک آدمی کسی نا پسندیدہ بات کو دیکھتا ہے اگر بے اختیار اس کا ناپسندیدگی کا اظہار ہوتا ہے، گالی منہ سے نکلتی ہے، مشتعل ہو جاتا ہے کبھی ہاتھ اٹھا بیٹھتا ہے، کبھی کسی اور ایسے طریق پر اس کو ذلیل اور رسوا کرتا ہے کہ اس کے دل سے اس کی بھڑاس نکل جائے اس کو خلق تو نہیں کہتے۔یہ تو بنیادی ہمیت ہے۔وہ فطرت ہے جو Raw حالت میں ہے جو اپنی کچی حالت میں ہے۔خلق کے لئے قربانی دینی پڑتی ہے۔ایسا شخص جب برداشت کرتا ہے تو بسا اوقات دیکھنے والے کو پتا ہی نہیں کہ اس کے دل پہ بھی تو کچھ گزر رہی ہے یہ بھی محسوس کر رہا ہے محسوس ہونے کے باوجود برداشت کرتا ہے۔تو دیکھیں ایک دیکھنے والے کے نزدیک تو کوئی آواز ہی نہیں آئی ، چپ کر کے ایک آدمی بیٹھا رہا ہے کہتے ہیں یہ بڑا خلیق ہے اس نے اچھے اخلاق کا مظاہرہ کیا مگر اس مظاہرے کے دوران اندر اس کے کیا کیفیت تھی یہ آپ کو کیا پتہ لگ سکتا ہے۔خلق میں اگر آپ تفصیل سے غور کریں گے اپنے تجربات پر غور کریں گے تو لازماً آپ کو دکھائی دے گا کہ ہر خلق کے اندر ایک مشقت اور محنت ہے اور بغیر محنت کے خلق کمائے نہیں جاتے۔پس یہ کہہ دینا کہ آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے صلاحیتیں زیادہ بخشی تھیں اس لئے آپ نے تو او پر آنا ہی تھا۔جتنی صلاحیتیں آپ کو بخشی ہیں آپ نے استعمال کرلی ہیں؟ کیا اپنی استعداد کے مطابق آپ خلیق ہو گئے ہیں ان معنوں میں کہ آپ کو جو استعدادیں ملیں تھیں آپ نے ان کو اس طرح زیر نگین کر لیا اور ہرلمحہ اپنے جذبات کے حوالے سے آپ نے قربانیاں دے دے کر اپنے آپ کو چمکایا ہے۔اگر یہ درست ہے تو پھر تو ٹھیک ہے کہ آپ کہیں جہاں تک ہم پہنچ سکتے تھے ہم پہنچ گئے ہیں جہاں تک محمد رسول اللہ کی پہنچ سکتے تھے پہنچ گئے اس میں ہمارا کوئی دخل نہیں ،مگر یہ درست نہیں ہے۔صرف یہ بات نہیں ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو وسیع تر اخلاق کی صلاحیتیں بخشی گئی تھیں بلکہ یہ بھی درست ہے کہ آپ اس کنارے تک پہنچے ہیں، اپنی حدود کے آخری کناروں کو چھوا ہے اور اس سفر کے لئے بے انتہا قربانیاں دی ہیں۔ایک ایک لمحہ آپ کا خلق کماتے ہوئے گزرا ہے تب جا کے وہ معراج نصیب ہوا جس کو لوگ دیکھتے ہیں اور عش عش کرتے ہیں اور نہیں جانتے کہ اس کی حقیقت کیا ہے۔پس ہر شخص کا اپنا بھی تو ایک معراج کا مقام ہے۔ہر شخص کو جو صلاحیتیں بخشی گئی ہیں ان کو اگر بروئے کارلائے ، ان کا