خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 972 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 972

خطبات طاہر جلد 15 972 خطبہ جمعہ 20 /دسمبر 1996ء یہ آیات جن کی میں نے تلاوت کی ہے ان میں وہی مضمون نسبتا مختلف زاویہ سے بیان ہوا ہے جو پہلے بھی خطبات میں پیش کرتا رہا ہوں۔خُذِ الْعَفْوَ عفو کو پکڑ بیٹھ ، مضبوطی سے اس پر قائم ہو جا لیکن اس کے ساتھ ہی وَآمُرُ بِالْعُرْفِ اور اس کے ساتھ معروف طور پر جو اچھی باتیں ہیں ان کا حکم بھی دیتا رہ، ان کو نصیحت کرتا رہ۔عفو کا جو مضمون میں پہلے بیان کر چکا ہوں وہی اس لفظ عفو میں شامل ہے یعنی درگزران معنوں میں کرنا کہ گویا کوئی چیز واقع ہوئی نہیں۔دوسرے اس کو اس طرح دور کرنے کی کوشش کرنا کہ جو شخص کسی خطا کا مرتکب ہوا ہو اس کے دل سے وہ خطا مٹ جائے۔پس عفو میں اصلاح کا جو معنی ہے یہ قرآن کریم کی آیات سے قطعی طور پر ثابت ہے اور احادیث نبویہ سے بھی اس مضمون کو تقویت ملتی ہے کہ عضو میں پہلے برائی کو صاف کر دینا دو طرح سے ہے یعنی اپنے دل پر اس کی میل نہ لانا اور اپنے دل کو ایسے شخص سے دور نہ ہٹنے دینا۔دوسرا توجہ کی وجہ سے اور پیار اور حکمت کے ساتھ اس بدی کا نقش اس کے دل سے محو کر دینا اور ایسا محوکر دینا گویا وہ تھی ہی نہیں۔فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ میں یہ مضمون ہے جو بیان ہوا ہے کہ عفو ایسی کہ نہ اپنے دل پر میل آئی نہ دوسرے دل پر میل رہنے دی اور اس کے نتیجہ میں اصلاح لا زما طبعی طور پر ہو گی۔اس عفو کے بعد پھر مثبت تعلیم کی ضرورت ہے اور عرف کی طرف بلانا کہ جب تم کمزوریوں سے پاک ہوئے ہو تو پھر کچھ مثبت قدم نیکیوں کی طرف بھی بڑھاؤ۔یہ وہ پہلو ہے جس پہ ہمیں اپنی اولاد کے تعلق میں بھی ہمیشہ نظر رکھنی چاہئے اور اپنے ماحول کے تعلق میں بھی ہمیشہ نظر رکھنی چاہئے کہ جب بھی کوئی خطا ہو اس خطا سے اس طرح عفو کیا جائے جیسا کہ پہلے خطبات میں میں بیان کر چکا ہوں اور پھر اس عفو کے ساتھ ہی اس طرف توجہ ہو کہ عضو کا انداز ایسا ہو کہ آپ ہی کے دل سے میل نہ مٹے بلکہ بدی کرنے والے کے دل سے بھی میل مٹ جائے اور اصلاح کا ایک طبعی نتیجہ اس سے ظاہر ہو۔جب یہ ہو تو پھر نیکیوں میں آگے قدم بڑھانا ضروری ہے کیونکہ اگر اسی حال پر چھوڑ دیا جائے تو ایسے لوگ پھر واپس اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹ سکتے ہیں مگر جب نیکی کا مزاج پیدا ہو جائے اور اس وقت حکمت کے ساتھ اس شخص کو جس کے دل میں ایک نرمی پیدا ہوئی ہے اور نیک بننے کی طرف توجہ پیدا ہوئی ہے اس کو ہاتھ پکڑ کر کچھ قدم آگے نیکی میں بڑھانا یہ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ کے تابع آتا ہے۔پس آنحضرت ﷺ کو ی تعلیم دی جارہی ہے۔ایسا عفو کر وجس کی وضاحت میں آنحضور سے یہ