خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 973 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 973

خطبات طاہر جلد 15 973 خطبہ جمعہ 20 /دسمبر 1996ء کے ارشادات کی روشنی میں کر چکا ہوں اور اس کے ساتھ ہی نیکی پر آگے بڑھا دو تا کہ پہلے مقام کی طرف لوٹنے کا کوئی سوال ہی باقی نہ رہے لیکن یہ کام آسان نہیں ہے کیونکہ بعض صورتوں میں جب جہلاء کے ساتھ آپ یہی معاملہ کرتے ہیں تو وہ غلط رد عمل دکھاتے ہیں اور تکلیف پہنچاتے ہیں۔تبلیغ میں ہر قسم کی تکلیف اسی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ جب آپ ان کو نیکیوں کی طرف بلاتے ہیں تو اس کے رد عمل میں پھر وہ آپ کو ایسی تکلیف پہنچاتے ہیں جو بعض دفعہ جذباتی اور بعض دفعہ بدنی ہوتی ہے۔ایسی صورت میں فرمایا اَعْرِضْ عَنِ الْجَهِلِينَ جب جہلاء سے یہ معاملہ کرو گے تو اس کے نتیجہ میں تکلیفیں پہنچیں گی لیکن اَعْرِضْ عَنِ الْجَهِلِینَ کا ایک مفہوم یہ ہے کہ جہلاء کو نظر انداز کر دو، ان سے منہ موڑ لو اور یہ احتمال ہے کہ بعض لوگ یہی معنی سمجھ بیٹھیں۔جاہلوں سے منہ موڑنے کی ان معنوں میں قرآن کریم میں کہیں تعلیم نہیں ہے کہ ان کی اصلاح کی کوشش کئے بغیر ان سے منہ موڑ لو۔ان کی جہالت کا علم اصلاح کی کوشش کے ساتھ ایک لازمی تعلق رکھتا ہے اور قرآن کریم میں بکثرت ایسی آیات ہیں، جن میں جہالت کا علم پہلے سے سوچ کر نہیں حاصل کیا جاتا ہے کہ یہ شخص جاہل ہے، اس کو نصیحت نہیں کرنی، اس کی اصلاح کی کوشش نہیں کرنی، بلکہ ہمیشہ بلا استثناء جہالت کا علم اس صورت میں ہوتا ہے کہ انسان ، خصوصاً خدا کے نبی ایک قوم کی جہالت دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر ان میں سے بعض ان سے جاہلانہ طریق پر پیش آتے ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ ان کی جہالت علم میں تبدیل ہو جاتی ہے۔پس عرب قوم کی جہالت کو آنحضرت ﷺ نے جس طرح دور فرمایا اگر أَعْرِضْ عَنِ الْجَهِلِينَ کا یہ مطلب لیا جاتا کہ جاہلوں سے کنارہ کشی کر جاؤ ، ان کی طرف پیٹھ پھیر کر ایک طرف الگ ہو جاؤ تو عرب میں وہ عظیم انقلاب کیسے برپا ہوتا جس نے جاہلوں کی کایا پلٹ دی۔پس یہ مفہوم غلط ہے کہ ان سے شروع ہی سے اعراض کر وہاں جب نصیحت کر بیٹھو تو پھر اعراض کرو اور پھر ان کے ساتھ ضد نہ کرو کیونکہ وہ لوگ جو فطرتا بد تمیز ہوں، جو نیکی کے نتیجے میں بدی پہنچا رہے ہوں ان سے پھر بار بار سر ٹکرانے کی کوئی ضرورت نہیں اور نسبنا نیک فطرت لوگوں کی تلاش کرو۔چنانچہ اس کے معابعد فرمایا وَ إِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ اللہ تم تو نیکی کی تعلیم دو گے ان کی بھلائی کی بات کر رہے ہو گے مگر شیطان کی طرف سے اگر تمہیں يَنْزَغَنَّكَ یعنی ضرور ایسا ہوگا کہ ایسا بعض صورتوں میں ہوگا۔چنانچہ نون ثقیلہ جب شد کے