خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 90 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 90

خطبات طاہر جلد 15 90 خطبہ جمعہ 2 فروری 1996ء ڈھنگ بھی دیکھیں کتنے پیارے ہیں۔ہمیں ہمارے حوالوں سے سکھاتا ہے اور بتاتا ہے کہ دیکھو جب تم بھوکے رہو گے تو اس بھوک کے نتیجہ میں تمہیں اپنے بھائی کی تکلیف کا احساس ہوگا اور یہ اس وقت تمہیں یاد آنا چاہئے کہ خدا کو احساس ہے اور وہ بھوک بھوک کی خاطر نہیں ڈالتا بلکہ اس سے اور بہت سے عظیم مقاصد ہیں جو حاصل ہوتے ہیں اور بھوک اور تکلیف کے نتیجہ میں اگر وہ خدا کی خاطر برداشت کی جائیں تو اللہ کی طرف سفر شروع ہو جاتا ہے اور انسان ان ذرائع سے اپنے آپ کو مزید چمکاتا ہے، اس اہل بنا دیتا ہے کہ وہ خدا کا قرب حاصل کر سکے۔پس جب رمضان شریف میں ایک انسان کسی غریب بھو کے کو کھانا کھلاتا ہے اور اس کی لذت محسوس کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بھوک کیا ہے۔پہلے بھی جانتا تھا مگر پہلے علم اور تھا اور اب ایک لمبا روزہ رکھا ہے اس نے اب جو وہ بھوک کو پہچانے لگا ہے ویسا پہلے نہیں پہچانتا تھا پھر وہ کسی کو کھلاتا ہے اور خدا کی خاطر کھلاتا ہے۔تو خدا نے جو بھوک کی تکلیف کا ذکر فرمایا کہ میں محسوس کر رہا تھا اور بھوک مٹنے کی خوشی کا اظہار فرمایا بعض لوگوں سے کہے گا تم نے مجھے کھانا کھلایا تھا جب میں بھوکا تھا تو یہ مراد ہے۔یہ دونوں تجربے آپ رمضان میں دیکھیں کس شان اور صفائی کے ساتھ اور کس گہرائی کے ساتھ حاصل ہو سکتے ہیں۔لیکن اگر یہ نہ ہو بلکہ افطاریاں کرانا ایک رسم بن جائے اور نام و نمود کا ذریعہ ہو جائے تو یہ رمضان بالکل فضول ، خالی خالی چلا جائے گا۔نہ آپ کو اللہ کا عرفان نصیب ہوگا ، نہ اس کے وہ فوائد ملیں گے نہ اس کے نتیجہ میں قرب الہی کا احساس پیدا ہوگا کیونکہ رمضان کمانا ہے تو اس طرح کمائیں جیسے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے کمایا اور آپ سے بڑھ کر قربت کسی نے کمائی نہیں۔اگر چہ یہ بھی خدا کا فضل ہی تھا جو آپ کو عطا ہوا۔مگر قربت کمانے کے بھی تو کچھ راز ہوا کرتے ہیں، کچھ ڈھنگ ہوتے ہیں۔بیٹھے بٹھائے تو قربت نہیں کمائی جاتی۔آپ سمجھتے ہیں حسن ایسی چیز ہے جس میں کوئی محنت نہیں از خود اس کے نتیجہ میں ایک شخص دوسروں کو قریب کر لیتا ہے مگر روحانی حسن کمانے پڑتے ہیں۔یہ یا درکھیں خلق اور خلق میں ایک نمایاں فرق ہے۔خلق تو وہ تحفہ ہے جو آپ کو بنا بنایا نصیب ہو گیا اور خلق میں سے ہر خلق کی قیمت دینی پڑتی ہے۔پس باوجود اس کے کہ بعض لوگ اعلیٰ اخلاق کی صلاحیتیں لے کے پیدا ہوتے ہیں مگر یہ خیال غلط ہے کہ ان کے خلق کی ان کو قیمت نہیں دینی پڑتی۔ہر