خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 959
خطبات طاہر جلد 15 لئے رحمت کا موجب بن سکتا ہے۔959 خطبہ جمعہ 13 /دسمبر 1996ء اب یہ جو حصہ میں نے داخل کیا ہے ان لوگوں سے حسن سلوک سے رکتے نہیں جن کے لئے ان کا حسن سلوک رحمت کا موجب بن سکتا ہے اس نے اس مضمون میں ایک ایسی وسعت بخشی ہے، اس بات نے جو دراصل حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی سیرت سے تعلق رکھنے والی بات ہے اور قرآن نے خود یہی تعریف فرمائی ہے اور اس خطبہ کے آخر پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے حوالے سے میں آپ کو بتاؤں گا کہ یہ مضمون اس میں داخل ہے۔الْكُظِمِينَ الْغَيْظَ اس موقع پر بنتے ہیں جہاں غصے کا ضبط کرنا اس شخص کے لئے فائدہ مند ہے جس کے مقابل پر غصے کو ضبط کیا جا رہا ہے۔جہاں اس کے لئے نقصان دہ ہے وہاں غصے کو ضبط نہیں کرتے۔وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ میں عفو کا وہی مضمون ہے جو میں پہلے خطبہ میں تفصیل سے بیان کر چکا ہوں اس کا مطلب صرف بخشا نہیں جیسا کہ عام طور پر ترجمہ میں کر دیا جاتا ہے، كَاظِمِينَ سے تعلق ہے اس کا۔کاظمین میں غصہ ضبط کیا جاتا ہے جبکہ وہ شدت کے ساتھ پھوٹ پڑنے پر تیار ہوا ور عفواس سے پہلے کا مضمون ہے کہ وہ عام طور پر لوگوں سے درگزر بھی کرتے ہیں۔اب ان دونوں کا بہت گہرا تعلق ہے کیونکہ ایک انسان میں بیک وقت ان دونوں باتوں کا ہونا ممکن ہے مگر ایک دوسرے سے الگ نہیں کی جاسکتی۔بیک وقت ہونا تو ممکن ہے کیونکہ وہ لوگ جو عَافِينَ کے عادی نہ ہوں وہ كَاظِمِينَ الْغَيْظ ہوہی نہیں سکتے ، ناممکن ہے۔روز مرہ کی زندگی میں جو چھوٹے بہت قصور ہوتے رہتے ہیں ان سے اگر انسان نظریں نہ پھیر سکے اور اس کے برعکس مین میخ نکالنے کا عادی ہو، وہ لوگوں کے قصوروں کی تلاش میں رہے ایسے لوگ ہمیشہ اپنی زندگی کو برباد کرتے رہتے ہیں، لوگوں کے لئے رحمت کا موجب بننے کی بجائے ان کے لئے ایک عذاب کا موجب بنے رہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اصلاح کی خاطر یہ کر رہے ہیں مگر اصلاح کا حق خدا نے صرف محمد رسول اللہ ﷺ کو اس سیرت کے ساتھ دیا ہے جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہے اور اس سیرت سے ہٹنے کے بعد کسی کو کوئی اصلاح کا حق نہیں رہتا، اصلاح کی مقدرت نہیں رہتی ، توفیق ہی نکل جاتی ہے ہاتھ سے۔پس یہ وہ صورت حال ہے جس کو آپ کو سمجھنا چاہئے گہری نظر سے کیونکہ ان اخلاق کو اپنانے کے لئے جب تک ان کی معرفت نہ ہو، ان کی گہرائیوں سے انسان واقف نہ ہو، تفاصیل پیش نظر نہ ہوں تو