خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 960 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 960

خطبات طاہر جلد 15 960 خطبہ جمعہ 13 /دسمبر 1996ء ان چیزوں کو اپنی ذات میں جاری کرنا آسان نہیں ہوا کرتا، پس عافِينَ عَنِ النَّاسِ آنحضرت کا ایک طبعی فطری اظہار تھا جس میں کسی بناوٹ کی کوئی ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ فطری اظہار جو خودرو صلى الله اظہار کی طرح ہوتا ہے اور اس میں کسی بناوٹ کی کوشش کی ضرورت نہیں پڑتی۔رسول اللہ علی عافِينَ عَنِ النَّاسِ طبعا تھے لیکن كَاظِمِينَ الْغَيْظَظ کے لئے کوشش کی ضرورت ہے اور جدو جہد کی ضرورت ہے اور وہ اسی کو نصیب ہوسکتی ہے جو عفو کا عادی ہو۔پس عفو سے مرادان روز مرہ کی باتوں میں، ان قصوروں میں نظر ہٹا لینا ہے جن قصوروں سے کوئی بھی انسان حقیقت میں آزاد نہیں سوائے اس کے کہ اللہ کی اس پہ خاص رحمت ہو۔تو ان کا مزاج یہ نہیں ہوتا کہ سوسائٹی میں لوگوں کے قصوروں کی تلاش کرتے رہتے ہیں، اس نے تو یہ کر دیا، اس نے تو وہ کر دیا، جو قصور ان کے سامنے خود ابھر آتے ہیں ان سے بھی نظر پھیرتے ہیں۔اب یہ وَلَا تَجَسَّسُوا والے مضمون کی ایک اعلیٰ صورت بیان فرمائی گئی ہے۔عفو تجسس کے برعکس مضمون ہے۔تجسس کا مطلب ہے تلاش کر کے معلوم کرو وہ کیا کرتا رہتا ہے اندر بیٹھا ہوا اور گھر میں بھی یہی خرابیاں ہیں جو بہت سی بڑی خرابیوں کو جنم دیتی ہیں، پیدا کرتی چلی جاتی ہیں۔اگر کوئی بیوی خاوند کے نقائص کی جستجو میں رہے تو اس کی زندگی ویسے ہی حرام ہو جاتی ہے۔وہ سوچتی رہتی ہے خاوند باہر گیا تھا تو پتا نہیں کیا کر رہا ہے وہاں بیٹھا اور کس کے گھر گیا تھا اور کیوں گیا تھا اور ساس بہو کی غلطیوں اور قصوروں کی تلاش میں رہتی ہے۔بہو بہانے نکالتی ہے کہ کس طرح اپنے خاوند کا دل اس کی ماں سے توڑ کر جدا کرے یہ بتانے کے لئے کہ اس کی ماں یہ یہ کام کرتی ہے۔یہ جو عادتیں ہیں یہ ملک ہیں انسانی زندگی کے لئے ، انسانی عمل کے لئے مہلک ہیں ان کو یہ وعدہ کیسے خدا دے سکتا ہے۔عَرْضُهَا السَّمَوتُ وَالْاَرْضُ ایسی جنتوں میں ہے عَرْضُهَا السَّمَوتُ وَالْأَرْضُ کہ اس کا پھیلاؤ تمام کائنات کے برابر ، اس پر پھیلا پڑا ہے۔جنہیں گھر کی جنت تو نصیب نہیں ہو سکتی وہ بیچارے باہر کی جنت کا تصور ہی نہیں کر سکتے ان میں اہلیت ہی نہیں پیدا ہوتی، خدا کیسے جھوٹے وعدے کرے گا ان سے۔اس لئے اگر چہ مضمون پھیلا ہے مگر گھر کے حوالے سے پھر آپ کو یاد کرانا پڑتا ہے کہ عَافِينَ عَنِ النَّاسِ تجس کے برعکس صورت حال ہے۔تجس سے صرف نظر کریں، لوگوں