خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 958
خطبات طاہر جلد 15 958 خطبہ جمعہ 13 /دسمبر 1996ء امیری تو وہ ہے جو نفس کی امیری ہو۔پس آنحضرت ﷺ اپنے سے زیادہ خوش حال لوگوں کی ضرورتیں پوری فرماتے تھے جب کہ خود بھی تنگ دستی ہو۔یہ وہ عظمت کردار ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے مرتبہ کو تمام عالمین پر محیط کر دیتی ہے اور ان سے بالا کر دیتی ہے۔وہ شخص جو عام قانون کے برعکس حرکت کرتا ہے، پانی نیچے کی طرف بہتا ہے یہ اوپر کی طرف فوارے کی طرح پھوٹتھا ہے اور بلندیوں کو بھی سیراب کر جاتا ہے۔وہ سیرت محمد مصطفی ﷺ کا بیان ہے ان آیات میں، جن کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ آپ ہی ہیں جو سر آء اور ضراء میں خرچ کرتے ہیں ورنہ یہ حوالہ کیوں ہوتا۔وَاَطِيْعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ تو حضور اکرم ﷺ کی سیرت ہی کا نقشہ ان آیات میں کھینچا گیا ہے اور اسی کی طرف بنی نوع انسان کو بلایا گیا ہے۔پس جماعت احمدیہ جس نے خدا کے حکم کے ساتھ تمام دنیا کے اخلاق کو درست کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے اس کے لئے اس کے سوا راہ ہی کوئی نہیں ہے کہ آنحضرت ﷺ کی سیرت کی غلامی اختیار کرے اور یہی غلامی ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ توفیق بخشے گی کہ اپنے سے اونچوں کی بھی وہ تربیت کریں گے اور اپنے سے نیچوں کی بھی تربیت کریں گے کیونکہ جب وہ سراء کی حالت میں ہوں گے تو پھر تو طبعی طور پر ان کی طرف سے پانی نیچے بہنا چاہئے مگر وہ جو فطرت کی خساست کی روکیں ہیں وہ ان کی راہ نہیں روکیں گی۔پس ان کا پانی اوپر سے بھی نیچے بہتا ہے، نیچے سے بھی اوپر بہتا ہے۔یہ رحمت محمد مصطفی محمد ﷺ کا نقشہ ہے جو ان آیات میں وضاحت کے ساتھ کھینچا گیا ہے۔اور پھر اس مضمون کو خدا تعالیٰ آگے بڑھاتا ہے۔وَالكُظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ اپنے غیظ کو وہ پی جاتے ہیں کیونکہ تختی اور مسلسل شفقت اکٹھے نہیں چلا کرتے اور اس کا تعلق ضرآء سے بھی ہے کیونکہ ان کا جو رحم ہے وہ ان کی طرف بھی جاری ہوتا ہے جو ان کو غیظ دلاتے ہیں۔پس یہ مضمون ایک نئے دائرے میں پھیل گیا ہے۔وہ شفقتوں اور رحمتوں کے اس مضمون سے اب یہ تعلق رکھتا ہے جو عام انسانی اخلاق سے وابستہ ہیں اور ان کا صرف مالی قربانی سے تعلق نہیں ہے اب یہ اخلاقی مضمون بن گیا ہے۔وَالكُظِمِينَ الْغَيْظَ جب ان کو کوئی نقصان پہنچاتا ہے اور غصے کا حق دیتا ہے، اس کا جواز دیتا ہے اس وقت اس کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ اپنے غصے کو روک لیتے ہیں اور ان لوگوں سے حسن سلوک سے رکتے نہیں جن سے حسن سلوک ان کے