خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 89
خطبات طاہر جلد 15 89 خطبہ جمعہ 2 فروری 1996ء آتا۔وہ تو رزاق ہے وہ تو جب اپنے بھوکے بندے کو کھانا کھاتے دیکھتا ہے تو جو لذت بھی خدا کے حوالے سے بیان کی جاتی ہے وہ محسوس فرماتا ہے یہاں تک کہ لوگوں سے قیامت کے دن سوال کرے گا کہ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا کیوں نہ کھلایا۔گویا ایسی لذت محسوس کرتا ہے گویا بھوکا کھاتے وقت محسوس کر رہا ہو۔ہم تو ہر بھوکے کی ذات میں ڈوب کر اس کی بھوک کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے ، اس بھوک کے مٹنے پر اس کی لذت کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔مگر وہ ذات جو ہر جگہ ہے، ہر کنہ سے واقف ہے وہ جانتی ہے کہ بھوک کیا تھی۔وہ ذات جانتی ہے کہ بھوک مٹنے پر جو لطف آیا ہے یا سکون نصیب ہوا ہے وہ کیا چیز ہے۔تو خدا تعالیٰ کی جہاں اس حد تک باریک نظر ہو اپنے بندوں پر کہ ان کی بھوک بن جائے ، ان کی سحری خدا کی سحری ہو جائے اس ذات کے متعلق یہ کہنا کہ ہم نے اسے حاصل کر لیا ہم جان گئے ہیں یہ درست نہیں ہے۔یہ تو تجربہ ہوگا تو پتا چلے گا، رفتہ رفتہ اس میں سفر ہوگا۔پس رمضان کے مہینہ میں وہ آپ کو بھوکا رکھنے سے کیا مزے اٹھا سکتا ہے جو خود بتا رہا ہے کہ میں تو تمہاری بھوک مٹا کے لطف اٹھاتا ہوں۔آپ کو پیاسا رکھ کے وہ کیسے مزے اڑا سکتا ہے جب کہ وہ خود کہتا ہے کہ میں پیاسے کی پیاس بجھاتا ہوں، ننگے کو کپڑے دیتا ہوں ،جس کی چھت نہیں ہے اس کے لئے چھت کا سامان کرتا ہوں اور جو ایسا کرتا ہے وہ گویا میری خاطر ایسا کرتا ہے، مجھے دیتا ہے۔پس یہ معنے ہیں بھوک اور تکلیف کے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ خود بنی نوع انسان کی تکلیفوں کو سمجھتا ہے اور جس حد تک سمجھتا ہے اس حد تک کوئی اور ذات سمجھ نہیں سکتی۔تکلیفوں کے دور ہونے کا لطف جو خدا کو علم ہے دنیا میں کسی اور ذات کو علم نہیں تو ہمیں بھی اپنے عرفان کی خاطر ان باتوں میں سے گزارتا ہے اور عرفان الہی کا ایک یہ بھی مضمون ہے کہ جیسے خدا اپنے بندوں کے حال پر گہری نظر رکھتا ہے ان کی بھوک پر بھی نظر رکھتا ہے، ان کی پیاس پر بھی ، ان کی غربت پر بھی ، ان کی بھوک مٹنے کے لطف بھی جانتا ہے، پیاس بجھنے کے لطف بھی جانتا ہے ، غربت سے امیری کی طرف سفر کی جولڈ تیں ہیں ان سے بھی آشنا ہے، اس خدا کی طرف تم نے حرکت کرنی ہے تو وہ طریق اختیار کرو۔اس لئے جو بھوک ہے وہ خدا تعالیٰ کے مزید عرفان کی خاطر ہے اور ہمیں وہ عرفان اپنی ذات کے حوالے سے دیا جا رہا ہے ورنہ خدا کو ہم بذات خود پہچان سکتے ہی نہیں کیونکہ وہ ذات ہی الگ ہے۔لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَی (شوری :12) اسی جیسی تو کوئی ذات ہے ہی نہیں۔پس خدا کے سکھانے کے