خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 944
خطبات طاہر جلد 15 944 خطبہ جمعہ مورخہ 6 دسمبر 1996ء مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ نے جھوٹے رنگ میں اپنے جھوٹ کا اقرار کیا ہے۔یہ ایک طرز کلام ہے اور چھوٹے چھوٹے بعض لفظ زبانوں میں بہت ہی مفید اور کار آمد الفاظ ہوتے ہیں تو ہلکا سا Twist دے دیں بات کو جو بدی کی خاطر نہیں بلکہ نیکی کی خاطر ہو تو اس سے معاملے حل ہو جاتے ہیں۔ابھی کل ہی ایک شخص کی طرف سے معافی کا خط ملا ہے جس نے اپنی عمر کا ایک لمبا عرصہ اخراج میں ضائع کر دیا اس بحث میں کہ نہیں میں سچا ہوں اس لئے میں کیسے معافی مانگوں اور ہر دفعہ اصرار۔میں نے کہا پھر اگر تمہارا یہ اصرار ہے تو بیٹھے رہو اسی پرہ، دلائل اور گواہیاں کہتی ہیں تم جھوٹے ہو اور تمہیں اصرار ہے اپنے بچ پر اور تم کہتے ہو میں پھر کیسے معافی مانگوں۔آخر خدا نے اس کو عقل دی اس نے جب دوبارہ معافی مانگی تو جو امور عامہ کے کارکن ہیں انہوں نے ان سے پوچھا کہ اسی شرط کے ساتھ مانگ رہے ہو۔اس نے کہا نہیں اب میں نے کافی دیکھ لیا ہے اس کا نقصان، میں جو بھی ہوں مجھے معاف کر دیا جائے۔میں یہ بحث چھیڑتا ہی نہیں کہ میں سچا تھا کہ جھوٹا تھا۔میں نے اسی وقت اس کو معاف کر دیا کیونکہ کسی کو جماعت سے الگ رکھنا تو میرے لئے بھی بڑی تکلیف کا موجب ہوتا ہے لیکن اگر کوئی غلط ضد پر اٹکا رہے تو اس کی غلط ضد کو تسلیم کرنا عفو اور درگزرا اور مغفرت کے تقاضوں کے اندر نہیں ہے، وہ اس سے باہر کی چیز ہے۔قرآن کریم فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ کا جو مضمون بیان کرتا ہے اس میں شرط ہے کہ عفو کی ایسی صورت میں تب اجازت ہوگی اگر اس کے نتیجہ میں اصلاح ہو۔اگر اس کے نتیجہ میں غلطیاں پھیل جائیں اور غلط اصول قائم ہو جائیں اور فتنے پیدا ہونے شروع ہو جائیں تو پھر عفو کی اجازت نہیں ہے۔اس لئے لوگ بعض دفعہ میرے ہی خطبوں کے حوالے دے کر مجھے ملزم کرتے ہیں کہ آپ نے تو عضو پر اتنا خطبہ دیا تھا مغفرت کی وہ وہ باتیں کی تھیں، آپ بھول گئے اب کیوں نہیں کرتے مغفرت سے کام۔حالانکہ ان کو پتا نہیں کہ قرآن کریم نے خدا تعالیٰ کی ہر قسم کی صفات بیان فرمائی ہیں وہ تمام صفات آنحضرت ﷺ کی ذات میں جلوہ گر تھیں اور ان کے درمیان عدل تھا ، ان کے درمیان ایک توازن تھا اور اس عدل کو قائم رکھنا لازم ہے۔ورنہ محض مغفرت کے نام پر اگر آپ ہر بات کو نظر انداز کریں اور ہر بات کو معاف کریں گے تو اس کے نتیجہ میں گناہ بہت ہی شوریدہ سر ہو جاتے ہیں وہ باغی ہوکر سارے معاشرے کو برباد کر دیتے ہیں۔تو ان چیزوں کے درمیان فرق رکھیں اور تب ہی رسول اللہ