خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 943
خطبات طاہر جلد 15 943 خطبہ جمعہ مورخہ 6 دسمبر 1996ء ہی ظالمانہ، جھوٹا الزام لگا، آپ نے کچھ عرصہ علیحدگی اختیار کی جب خدا تعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ الزام بالکل جھوٹا ہے اور حضرت عائشہ صدیقہ معصوم ہیں تو آپ نے واپسی کے وقت نرم باتیں شروع کر دیں، حضرت عائشہ صدیقہ نے کہا اب نرم باتوں کا کیا فائدہ ، اللہ نے حکم دیا ہے تو آئے ہو، مگر انسانی فطرت ہے آپ نے اپنی طرف سے پیار اور نرمی کی باتیں کیں مگر عائشہ صدیقہ " سمجھتی تھیں کہ اللہ کا حکم آگیا اب مجبور ہو گئے ہیں۔تو واپسی کے رستے انسان ہمیشہ ڈھونڈا کرتا ہے اور اپنی زندگی کے تجربوں پر آپ نظر ڈال کے دیکھ لیں ایک دفعہ جب آپ صفح کا معاملہ شروع کر دیں تو پھر بسا اوقات واپسی میں الجھن پیدا ہوتی ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس سلسلے میں بہت سے پیارے انداز دکھائے جن سے پتا چلتا ہے کہ مغفرت کے لئے صفح کے بعد رستہ بنانا چاہئے اور انسان کو واپس لوٹنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس انا کو توڑنے کے لئے ایک بہت ہی پیارا نسخہ بیان فرمایا۔بعض دفعہ صلح سچ ہے ناراضگی حق ہے لیکن اب اگلا بھی ناراض ہو بیٹھتا ہے وہ سمجھتا ہے میں سچا ہوں تو پھر واپسی کا پل قائم کرنا ذرا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں بچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو پھر کوئی مشکل نہیں رہے گی۔یہ جوانا کا معاملہ ہے، انا جو حائل ہو جاتی ہے دوبارہ تعلقات کے قیام کے لئے اس کو توڑنے کے لئے اس سے اچھا کوئی رستہ نہیں ہے اور میں نے خود بھی اس کو استعمال کر کے دیکھا ہے، دوسروں کو بھی استعمال کروایا ہے بہت ہی اعلیٰ درجے کا نسخہ ہے۔یہ نہیں فرمایا بچے ہو کر جھوٹے ہونے کا اقرار کرو۔اب سچے ہو کر جھوٹا ہونے کا اقرار کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر انسان سمجھ رہا ہے کہ میں جھوٹا نہیں ہوں اور یقین رکھتا ہے کہ میں جھوٹا نہیں ہوں تو پھر اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ کہنا کہ بچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو ایک ہی معنی رکھ سکتا ہے دوسرا معنی اس میں آہی نہیں سکتا۔اس کا یہ معنی ہو نہیں سکتا کہ بچے ہو تو جھوٹ بول کر اپنے آپ کو جھوٹا کہو اور کئی لوگوں کو اس فقرے کا مفہوم نہ سمجھ آنے کے نتیجہ میں واپسی کا رستہ ہی نہیں پھر یا درہتا۔وہ کہتے ہیں ہم بچے ہیں ہم کیسے کہیں کہ ہم جھوٹے ہیں۔یہ نہیں کہنا کہ ہم جھوٹے ہیں، تذلل ایسا اختیار کرو گویا تم جھوٹے ہو۔تو اچھا جو بھی ہے ہمیں معاف کر دو، قصور ہمارا ہی سہی اب یہ کہنے کا طریق ہے، یہ تو جھوٹ نہیں ہے۔اچھا چھوڑ واس جھگڑے کو، جو پرانی باتیں ہیں ان کو طول نہ دو ختم کرو چلو میں ہی جھوٹا سہی یہ جب کہتے ہیں ”میں ہی جھوٹا سہی تو اس کا