خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 945
خطبات طاہر جلد 15 صل الله 945 خطبہ جمعہ مورخہ 6 دسمبر 1996ء کی بعض ناراضگیاں بہت لمبا عرصہ چلی ہیں مگر اس لئے کہ ان معاملات میں آپ سمجھتے تھے کہ خدا کی اجازت کے بغیر میں مغفرت سے کام نہیں لے سکتا۔جب اجازت آئی تو پھر آپ نے وہ مغفرت سے کام لیا۔جہاں ایسا معاملہ نہیں تھا وہاں آپ نے بڑے بڑے درگزر اور عفو اور مغفرت سے کام لئے ہیں۔تو یہ مضامین ایسے ہیں جو توازن کا تقاضا کرتے ہیں اپنی طبیعتوں میں ان باتوں میں توازن رکھئے۔پس مغفرت کی بھی ضرورت پڑے گی اگر وہ ایسے گناہ ہوں جن سے بخشش سے کام لینا ہے تو پھر عفو کے اس مضمون کے بعد جو میں نے بیان کیا ہے، اس سے علیحدگی کے بعد پھر واپس لوٹو ، پھر معافی دو اور معافی کے بعد اور بھی زیادہ محبت بڑھ جایا کرتی ہے بسا اوقات کسی نے کہا ہے۔بڑا مزہ اس ملاپ میں ہے جو صلح ہو جائے جنگ ہو کر جنگ کی اپنی تلخیاں سہی مگر جنگ کے بعد جو ملنے کا مزہ ہے وہ پھر بات ہی اور ہے۔تو مغفرت اس مزے کا نام ہے جو کچھ لڑائی، کچھ جنگ کے بعد انسان کرتا ہے اور پہلے سے بھی زیادہ تعلق میں بڑھ جاتا ہے اسی لئے حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو ایک موقع پر اس طرح بیان فرمایا ہے کہ گویا خدا کو گناہ اچھا لگتا ہے کیونکہ اس کے بعد اس کو مغفرت کا بڑا مزہ آتا ہے۔وہ میں نے ایک موقع پر تفصیل سے سمجھایا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ مطلب نہیں ہے جو تم سمجھ رہے ہو لیکن یہ اپنی جگہ لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ غفور رحیم ہے اس کو مغفرت کا اس سے لطف آتا ہے کہ اس کی مغفرت کے نتیجہ میں گناہوں کو حوصلہ نہیں ملتا بلکہ گناہ مٹتے ہیں اور بندے کا خدا سے پیار بڑھ جاتا ہے اور یہ وہ حکمت ہے جو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں مغفرت کے مضمون کو جتنا بار بار بیان فرمایا ہے شاید ہی کوئی اور مضمون ہو جو اس طرح اصرار اور تکرار کے ساتھ بار بار بیان ہوا ہو، مگر تکرار نہیں بلکہ بلاغ مبین کے طور پر بیان ہوا ہو۔فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِیم پس یا د رکھنا کہ اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ہے۔یہاں دو باتیں ہیں جن پر اس آیت کا اختتام ہے۔اوّل یہ کہ اللہ تو غفور ہے اگر تم غفور نہیں بنو گے تو اللہ سے تعلق کاٹ لو گے ادھر اولا د کو دشمن بناؤ گے وہ ہاتھ سے جاتی رہے گی، بیوی جس کو تمہارے لئے سکینت اور راحت قلب کے لئے پیدا کیا گیا وہ تمہارے لئے سکینت اور راحت قلب دینے کی بجائے تمہارے خلاف عنا در رکھنے والی ہو جائے گی۔اولاد جس پر انسان کی آئندہ نسلوں کی بقاء کا انحصار ہے اس کی اپنی