خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 88
خطبات طاہر جلد 15 88 خطبہ جمعہ 2 فروری 1996ء ہے اور یہ بھی ہے اور یہ بھی ہے اور یہ بھی ہے۔ایک ایسی خوبصورت وادی کا سفر جو نہ ختم ہونے والی ہو ہر موڑ پر ایک نیا حسن دکھائے اس سفر کی طرف اشارہ ہے وَلْيُؤْمِنُوابی استجابت کریں۔میری باتیں مان کے تو دیکھیں ان کو پتا تو لگے کہ ایمان کیا ہوتا ہے۔پھر وہ مجھ پر ایمان لائیں گے اور وہ ایمان جو ہے وہ نہ ختم ہونے والا ہے۔كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (الرحمن : 30) پھر وہ مجھے دیکھیں گے کہ میری تو ہر دن ہرلمحہ جوان پر گزرتا ہے شان بدلتی چلی جا رہی ہے۔ایک شان کے ساتھ میں آج ان پر طلوع ہوا ہوں، ایک نئی شان کے ساتھ کل طلوع ہوں گا۔جب ہر لمحہ شان بدلے گی تو علم کامل ہو ہی نہیں سکتا مگر علم صحیح رخ پر رواں ہوسکتا ہے اس سے زیادہ انسان کو کوئی طاقت نہیں اس سے زیادہ وہ کچھ حاصل نہیں کر سکتا کہ اللہ تعالیٰ کے عرفان یا اس کے علم کے سفر میں انسان غرق ہو جائے اور آگے بڑھتا چلا جائے یہاں تک کہ وہ خود راہنمائی کر کے ہاتھ پکڑ کر پھر اپنی طرف لے کر جائے۔اب یہ عجیب بات لگتی ہے ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف لے جانا مگر قران کریم یہی فرماتا ہے آنحضرت ﷺ کے روحانی سفر کے متعلق آسرى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا ( بنی اسرائیل :2) اللہ نے محمد رسول اللہﷺ کا گویا ہاتھ پکڑا ، ہاتھ پکڑ کر وہ ایک سفر پر ساتھ روانہ ہوا جو خدا کی طرف کا سفر تھا۔تو ظاہر بات ہے کہ اس میں جسمانی سفر مراد ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ کوئی شخص کسی کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے وہ اپنی طرف اس کو روانہ کر ہی نہیں سکتا۔مگر اگر لامحدود ذات ہو اور اس کی ذات کے اندر کا سفر ہو تو وہ ہاتھ پکڑنے والا جہاں ہاتھ پکڑتا ہے وہاں بھی ہے اور اپنی جن گہرائیوں کی طرف لے کر جا رہا ہے وہاں بھی ہے۔پس وہ ہاتھ پکڑتا ہے اور اپنی ذات کے اندر کا ایک ایسا سفر شروع کرواتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔پس ان معنوں میں وَلْيُؤْمِنُوالی کے مضمون کو آپ سمجھیں تو فرمایا لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ یہ حقیقت لوگ سمجھ جائیں تو پھر وہ ہدایت پا جائیں گے۔ہو سکتا ہے وہ ہدایت پا جائیں لَعَلَّهُمْ ان کے لئے امکان پیدا ہو گا۔پس اس رمضان مبارک میں یہ مزے چکھیں تو پھر آپ کو سمجھ آئے گی کہ عبادتوں کا کیا مقصود ہے؟ بھوکا رہنا کیوں ہے؟ ور نہ خالی بھوکا رکھنے سے اور تکلیف دینے سے تو خدا کو کوئی مزہ نہیں