خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 936 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 936

خطبات طاہر جلد 15 936 خطبہ جمعہ مورخہ 6 دسمبر 1996ء اللهُ لَا اِلهَ اِلَّا هُوَ کا مضمون جو ہے یہ تو حید کی طرف جو غیر معمولی توجہ دلائی گئی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ بلاغ تمہارا کام ہے اور زبردستی تمہارا کام نہیں ہے اور اگر تم یہ سمجھو گے کہ تم زبر دستی کسی کو ٹھیک کر لو گے تو یہ شرک ہے اور یاد رکھو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تمہیں کبھی بھی خدائی طاقتیں نصیب نہیں ہو سکتیں تم اپنی مرضی سے کسی کو بدل نہیں سکتے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی یہی مضمون اس موقع پر جو ایک شکایت سے تعلق رکھتا ہے جو ایک شخص جو ویسے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے والے بظاہر ایک بزرگ صحابی تھے مگر ان کے دل میں کوئی ایسا رخنہ تھا جس کی اصلاح ضروری تھی وہ اپنی اولاد پر بہت زیادہ سختی کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا اور کہا کہ تم مشرک ہواگر یہ کام کرتے ہو تم سمجھتے ہو تم خود ٹھیک کر لو گے یہ ہو نہیں سکتا اس لئے دعا پہ زور دو۔یہ جوا گلا آیت کا حصہ ہے وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ کا مطلب یہ ہے کہ جب جو لوگ رسول اللہ اللہ کی نصیحت سے اثر لینے کی بجائے پیٹھ پھیر کر چلے جاتے تھے تو ان کو پھر بھی اس حال میں چھوڑا نہیں کرتے تھے۔اپنی نصیحت کے اثر انداز ہونے کے متعلق اللہ پر تو کل فرمایا کرتے تھے اور اللہ آپ کی دعاؤں کو سنتا تھا اور جہاں بلاغ بظاہر نا کام رہا وہاں توكل على اللہ کامیاب ہو جاتا تھا کیونکہ اصل تو وہی معبود ہے اس کے قبضہ قدرت میں ہر چیز ہے تو کتنا عظیمالشان مضمون ہے جو ان آیات میں ایک ترتیب کے ساتھ ، ایک تدریج کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔فرمایا اللہ پر توکل کرو۔رسول اللہ ﷺ کا بھی یہی طریق تھا کہ اپنے آپ کو پیچھے چھوڑ کر جانے والوں کو اس طرح ترک نہیں فرما دیتے تھے کہ اب ان کا معاملہ خدا پر میں چھوڑتا ہوں بلکہ ان کے لئے دعائیں کرتے تھے اور اپنے بلاغ کے کامیاب ہونے سے متعلق خدا کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔اب یہ بھی وہی مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضور ﷺ کی عظیم کامیابی کے راز کے طور پر بیان فرمایا۔وہاں بلاغ کو نہیں پیش کیا وہاں دعا اور توکل علی اللہ کو پیش کیا۔آپ کو جو آخری عظیم کامیابی نصیب ہوئی ہے وہ دعاؤں کے نتیجہ میں، اللہ تعالیٰ کی ذات پر جو تو کل تھا اس کو ملحوظ رکھتے ہوئے جو آپ نے دعائیں کی ہیں تو ایسی