خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 937
خطبات طاہر جلد 15 937 خطبہ جمعہ مورخہ 6 دسمبر 1996ء دعائیں کی ہیں کہ اے خدا تیرے سوا اب کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا اس دنیا میں وہ تو ہی ہے جو انقلاب بر پا کرے گا اور جب ایسی دعائیں کیں تو اللہ نے انقلاب بر پا کر دیا اور وہ انقلاب ایک عظیم معجزہ ہے جس کی کوئی مثال نبوت کی تاریخ میں آپ کو کہیں دکھائی نہیں دے گی کہ کوئی نبی وفات نہ پائے جب تک کہ اپنی ساری قوم کی کایا نہ پلٹ دے۔وہ قوم جو اس کے خون کی پیاسی ہو جو شرک میں انتہا درجے تک ڈوب چکی ہو کسی کے علم میں کوئی مثال ہے تو لا کے تو دکھائے۔اس کے پاسنگ کی مثال بھی ساری دنیا میں مذہبی تاریخ میں آپ کو دکھائی نہیں دے گی ایک محمد رسول اللہ ﷺ اور جس طرح اللہ ایک ہے اللہ پر توکل کرنے والا بھی دراصل ایک ہی تھا یعنی حضرت محمد رسول اللہ ہے جن کی کوئی مثال تاریخ انبیاء میں ایسی دکھائی نہیں دیتی۔درجہ بدرجہ سب ہی تو کل کرنے والے تھے درجہ بدرجہ سب نے ہی دعاؤں کا فیض پایا مگر کسی کی دعائیں ایسی ثابت نہیں جس نے ساری قوم کی کایا پلٹ دی ہو سوائے حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کے۔صلى الله پھر خدا تعالیٰ اس کے بعد فرماتا ہے، اس نصیحت کے مضمون کو اپنے گھر اور ماحول پر اطلاق کرتے ہوئے فرماتا ہے یہ قاعدہ کلیہ ہے یہ ازلی ابدی راز ہیں نصیحت میں کامیابی کے۔تم بھی ان کی طرف توجہ کرو اور گھر سے بات شروع کرو اور یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے خونی اقرباء تمہارے ہیں جس طرح چا ہوان سے سلوک کر لو جو اصول خدا تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں اگر تم نے ان کو نظر انداز کیا تو تمہاری اپنی صلب سے تمہارے دشمن پیدا ہو سکتے ہیں۔پس یہی وہ مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو بتایا کہ تم اپنی اولاد کو اپنے ہاتھوں سے ضائع نہ کروا پنادشمن نہ بناؤ کیوں کہ تم آنحضور کی سنت کے مطابق عمل نہیں کر رہے ہو۔صلى الله چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَاَوْلَادِكُمْ عَدُ والكُمْ کیوں غور نہیں کرتے ، کیوں فکر نہیں کرتے ، تمہاری اپنی بیویاں، تمہاری اپنی اولاد تمہاری دشمن ہے یعنی ان میں سے تمہارے دشمن ہیں۔مراد یہ ہے کہ کچھ ایسے لوگ ہیں جو ایسے بد نصیب ہیں کہ گویا ان کی بیویاں بھی ان کی دشمن ہو سکتی ہیں اور ہو جاتی ہیں اور ان کی اولا د بھی ان کی دشمن ہو سکتی ہے اور ہو جاتی ہے کیوں ہوتی ہے؟ ان کی غلط نصیحت اور غلط تربیت کے رنگ کی وجہ سے۔چنانچہ یہ کہنے کے بعد، یہ تنبیہ کرنے کے بعد فَاحْذَرُو ہ ان کے معاملے میں احتیاط سے کام