خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 935
خطبات طاہر جلد 15 935 خطبہ جمعہ مورخہ 6/دسمبر 1996ء ایسی نصائح ہیں جو کثرت سے دہرائی گئی ہیں۔اور اس پہلو سے ”ذکر“ میں جو زور ہے نصیحت کر اور کرتا چلا جاوہ الْبَاغُ الْمُبِينُ کا ہی ایک پہلو ہے۔پس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں جہاں بھی بظاہر تکرار فرمائی ہے وہ تکرار نہیں ہے بلکہ اصرار ان معنوں میں کہ جب تک وہ بات سمجھ نہ آئے میں نہیں چھوڑوں گا۔پس اس آیت کے حوالے سے مضمون اور بھی زیادہ کھل گیا اور روشن ہو گیا جو رویا میں مجھے دکھایا گیا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الله لا إلهَ إِلَّا هُوَ اللہ وہ ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ اور اللہ ہی پر مومن تو کل کرتے ہیں۔پہلی بات تو ضمنا یہ بتانی ضروری ہے کہ اس آیت کا پہلی آیت سے کیا تعلق ہے۔اس کا پہلی آیت کے آخری حصے سے تعلق ہے۔فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَإِنَّمَا عَلَى رَسُولِنَا الْبَاغُ الْمُبِينُ اگر تم پھر جاؤ گے تو ہمارے رسول پر تو صرف کھول کھول کر بات کو پہنچا دینا تھا جو اس نے پہنچا دی لیکن تمہارے پھر جانے سے اسے نقصان کوئی نہیں پہنچے گا یہ وہ مضمون ہے جس کو اگلی آیت الله نے اُٹھایا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایک ہی خدا ہے اس کے سوا کوئی نہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کا خدا وہی ہے جو ہر چیز کا مالک ہے اور خالق ہے پس تمہارے چھوڑنے سے محمد رسول اللہ اللہ کو کیا فرق پڑے گا انہوں نے بات کھول دی اپنا فرض ادا کر دیا۔اگر تم پھرتے ہو تو ایک کوڑی کا بھی فرق ، ایک ذرہ بھی فرق محمد رسول اللہ ﷺ پر نہیں پڑے گا کیونکہ اللہ آپ کو نہیں چھوڑے گا اور تم بھی یہ رنگ اختیار کرو۔وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ پر صلى الله چاہئے کہ مومن خدا ہی پر تو کل کیا کریں جیسا کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کا تمام تر تو کل اپنی نصیحت پر نہیں بلکہ اللہ پر تھا اور یہ تو کل علی اللہ کا مضمون دعاؤں کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے اور اس تعلق میں بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک نصیحت موجود ہے۔ایک باپ کے متعلق جب سختی کی اطلاع ملی کہ بہت سختی کرتا ہے تو حضرت اقدس مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام نے اسے شرک قرار دیا، سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا اور