خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 87
خطبات طاہر جلد 15 87 خطبہ جمعہ 2 فروری 1996ء ہیں۔بعض لوگوں کا قرب دکھائی دیتا ہے کہ بہت قریب ہیں لیکن پھر بھی اس ذات میں اور قرب چاہنے والے کے درمیان ایک فاصلہ رہتا ہے اور جوں جوں وہ ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھتے ہیں ایک دوسرے سے قریب تر ہوتے چلے جاتے ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ کسی انسان کی کتنی گہرائی ہے جتنی طبیعت میں گہرائی ہوگی اتنا قرب رفتہ رفتہ ملے گا اور بیک وقت یہ نہیں کہہ سکتے کہ مجھے فلاں شخص کا قرب نصیب ہو گیا ہے اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کا تعلق ہے وہ قریب تر ہوتے ہوئے بھی تو اتنا دور ہے کہ اس کے متعلق لوگ پوچھتے پھرتے ہیں۔اس سے صاف پتا چلا کہ قریب سے مراد کوئی ایک ایسا مقام نہیں ہے جو حاصل ہو گیا، آپ نے پکڑ لیا اور قریب چیز ہاتھ آگئی۔۔قرب کی اتنی منازل ہیں کہ قریب ہونے کے باوجود دکھائی نہیں دیتا، سنائی نہیں دیتا۔اس کا شعور پیدا نہیں ہوتا اس پر ایمان نہیں آتا اور قریب پھر بھی ہے۔جب شعور پیدا ہوتا ہے تو ایمان بڑھنے لگتا ہے وہ حقیقت میں کچھ اور قریب ہونے لگتا ہے اور یہ قرب ایسا نہیں کہ چیز چیز سے ٹکرا گئی اور بات ختم ہو گئی۔یہ قرب ایسا ہے جو لامتناہی سفر ہے کبھی نہ ختم ہونے والا اور اسی لئے سیر فی الله کا مضمون قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔تو ایک سیر ہے جو کسی جگہ پہنچ کر اس کو دیکھا جاتا ہے اس کا نظارہ کیا جاتا ہے۔ایک سیر ہے جو ڈوب کر ہوتی ہے۔تو سیر فی اللہ کا جومحاورہ ہے اس میں یہی اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں ڈوب کر اس سے زیادہ قریب تو ہو نہیں سکتے کہ کسی کی ذات میں ڈوب جاؤ مگر وہاں پہنچ کر اتنے قرب کے بعد تمہیں یہ سمجھ آئے گی کہ منزل آنہیں گئی ،منزل کی طرف سفر شروع ہوا ہے اور یہ وہ سفر ہے جو غیر متناہی سفر ہے اس کا کوئی کنارہ نہیں ہے کیونکہ غرق ہونے کے بعد، ایک ایسی ذات میں غرق ہونے کے بعد جس کی کوئی اتھاہ نہیں ، جس کی کوئی آخری حد نہیں ہے، کوئی نیچے ایسی چٹان نہیں کہ پہنچ کے آپ کہہ دیں کہ یہ اس کی آخری حد تھی بلکہ اس کی گہرائی لامحدود ہے کوئی مقام نہیں جہاں پہنچ کے پاؤں لگ سکیں انسان کے۔پس اس پہلو سے قریب کے معنی جو ہیں وہ یہ ہوں گے کہ وہ جب میری باتوں کا جواب دیں گے تو اس کا مجھ پر ایمان ہمیشہ بڑھتا رہے گا اور ایمان بڑھنا یہاں ان معنوں میں ہے کہ عرفان بڑھتا رہے گا۔ایمان بڑھنا یہاں ان معنوں میں ہے کہ میری ذات کا علم ان کو ایسا نصیب ہوگا کہ ہر دفعہ وہ کہیں گے، ہیں! یہ خدا تھا، ہم تو دھوکے میں رہے ، ہم تو کچھ اور سمجھتے رہے لیکن اللہ یہ بھی