خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 885 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 885

خطبات طاہر جلد 15 885 خطبہ جمعہ 15 رنومبر 1996ء یہ تو سرکش ہی ہوتا چلا جارہا ہے اور جب وہ کہہ رہی ہوتی ہیں میں اس کے بچے کی آنکھوں میں غیظ وغضب دیکھ رہا ہوتا ہوں اور بھی زیادہ متنفر ہو رہا ہوتا ہے ماں باپ سے کہ ہمیں تو یہ ملانے کے لئے لائے تھے کہ ٹیلی ویژن پہ ہم جس کو دیکھا کرتے تھے اس سے ملاقات ہوگی اور وہ ہمیں چاکلیٹ بھی دے گا تو اس کو تو ہمارا دشمن بنا رہے ہیں یہ۔تو وہ پہلے سے زیادہ متنفر ہو جاتے ہیں۔پھر میں ان کو آگے بلاتا ہوں پیار سے اور کافی ان میں غصہ آچکا ہوتا ہے اس وقت تک، پیار کر کے، تھپکا کر ، آہستہ آہستہ باتیں کر کے ان کا خوف دور کرتا ہوں۔کہتا ہوں ماں باپ کی بات نہ سنو تم تو اچھے ہو، اندر سے تم اچھے ہونا آخر۔کہتے ہیں ہاں ہم اچھے ہیں تو جب وہ اپنی اچھائی تسلیم کر لیتے ہیں تو پھر آہستہ آہستہ بعض دفعہ ماں باپ بھی بتانے لگ جاتے ہیں کہ ہاں اس میں یہ بات تو ہے۔تو میں نے کہا جب یہ بات ہے تو کیوں آپ نے اس کو بد بنا کر پیش کیا۔پھر اس سے باتیں ہوتی ہیں رفتہ رفتہ ، بلا استثناء آج تک میں نے کبھی اس حکمت عملی کو جو خدا کی سکھائی، قرآن کی حکمت عملی ہے نا کام ہوتے نہیں دیکھتا۔وہ اپنی خوبیوں کو جب بیان ہوتا دیکھتا ہے اور خوبی کے حوالے سے میں اس سے وعدے لیتا ہوں کہ تم نے اب یہ کام بھی نہیں کرنا وہ بھی نہیں کرنا تو وعدے کرتا ہے اور اگلی ملاقات میں یا بعض دفعہ خطوں کے ذریعے ماں باپ شکریہ ادا کرتے ہیں کہ واقعہ تبدیل ہو گیا ہے اور پھر وہ مستقل تبدیلی رہتی ہے۔ایسے بچے بھی جن کو سکول کے اساتذہ تبدیل نہیں کر سکے اور ماں باپ کو شکایتیں کرتے تھے کہ شاید یہ پڑھنے کے قابل ہی نہ سمجھا جائے اس میں یہ برائیاں ہیں جب ان سے اس طریق پر بات کی جو خوب صورتی کی تلاش اور خوب صورتی پر عمل درآمد کر کے اس کے اندر نیا حسن پیدا کرتا ہے تو اس کے بعد، یعنی ایسی مثالیں ہیں جو معین میں بیان کر رہا ہوں کوئی فرضی باتیں نہیں کر رہا، ان کے ماں باپ نے بتایا کہ اساتذہ نے تعریف کی ہے اس کی اب کہ اس بچے میں تو انقلاب آ گیا ہے۔تو آپ نے جو باتیں بچے میں انقلاب کرنے کے لئے کرنی ہیں وہ ساری دنیا میں وہی کام آئیں گی۔ان باتوں میں انسانی فطرت ہے جو مرکزی نقطہ ہے وہ ہر بچے ، بوڑھے، جوان، مرد، عورت سب میں برابر ہوتی ہے اور یہی حکمت عملی ہے جو دنیا کو دعوت الی اللہ کی طرف بلانے میں کامیاب ہوگی۔تو اپنے تعلقات بڑھا ئیں محض پیغام نہ دیں۔گردو پیش احسان کا مضمون جاری کریں اور پھر خوبیوں پر نظر رکھتے ہوئے ان کی خوبیوں کو آگے بڑھا ئیں۔جب خوبیوں میں ایک قسم کا بڑھنے کا