خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 884 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 884

خطبات طاہر جلد 15 884 خطبہ جمعہ 15 /نومبر 1996ء بہت خوش ہوتا ہے خواہ سر سے پاؤں تک بدیوں سے وہ داغ دار ہو اس کے اندر کوئی نہ کوئی خوبی ہوتی ہے۔آپ میں اگر پہچان ہے، اگر عرفان ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آپ کسی کی خوبی کو پہچان کر اس پر کام کریں، نہ کہ اس کی بدیوں سے بات شروع کریں۔بدیوں پر غلبہ کے لئے کوئی وہاں Foot Hold ہونا ضروری ہے۔جب فوجیں کسی دوسرے ملک پر حملہ کرتی ہیں تو اس کو فتح کرنے کے لئے پہلے وہاں ایک چھوٹی سی جگہ تجویز کرتے ہیں کہ یہاں ہم اتریں، یہاں اپنا وہ قدم جمائیں جس قدم کے جمانے کے بعد پھر ہم ارد گرد کام کر سکتے ہیں۔تو یہ بھی بیہودہ طریق ہے کہ پہلے بدیوں پر ہی حملہ کر دو۔قدم جمانے کے لئے اپنے مزاج کی چیز پر قدم جمایا جاتا ہے۔جوسرز مین قبول کر سکے کسی فوجی یلغار کو اسی کو چنا جاتا ہے۔پس حکمت عملی کا تقاضا یہ ہوتا ہے اور ہمیشہ یہی ہوتا ہے یہاں تک کہ ابھی زائر میں جو انگلستان کا یہاں سے فوجی وفد روانہ ہونے والا تھا اس کے کمانڈر نے اپنے بیان میں یہ بات بھی داخل کی۔ان سے پوچھا کسی ٹیلی ویژن کے ایک سوال کرنے والے نے کہ آپ کیسے کام کریں گے۔اس نے کہا سب سے پہلے تو ہم یہ دیکھیں گے کہ وہاں قدم جمانے کے لئے کون سی جگہ موزوں ہے جب تک ہمیں وہ جگہ نہ مل جائے ہم کامیاب نہیں ہو سکتے تو جائزہ لے کر اس جگہ کو ڈھونڈیں گے پھر وہاں قدم جمائیں گے پھر اردگرد کا کام آسان ہو جائے گا۔تو کسی انسان کو دعوت دے کر بلانے سے پہلے اس کے دل میں وہ جگہ تو ڈھونڈیں جس میں آپ کا قدم صدق، آپ کی سچائی کا قدم مضبوطی کے ساتھ گڑ جائے اور وہ خوبیوں کی جگہ پر ہوگا۔یہ ایسا ہونا صرف خوبی کی جگہ پر ممکن ہوگا۔یہ نہیں کہ ہر اس کی عادت کے ساتھ اپنا تعلق باندھنا، اگر اکثر بد ہے تو آپ کو بد ہوئے بغیر اس سے تعلق قائم ہوہی نہیں سکتا۔پس خوبی کی تلاش کرنا اور اس سے تعلق باندھنا ضروری ہے پھر ماحول کو رفتہ رفتہ خوبیوں میں تبدیل کرنے کا کام ممکن ہے اور وہ شخص جس کے ساتھ یہ تعلق قائم ہواللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ ضرور آپ کی نیکی سے پہلے سے زیادہ مغلوب ہوتا چلا جاتا ہے اور متاثر ہوتا چلا جاتا ہے۔بچوں کی تربیت میں بھی یہی حساب ہے کسی بچے کو مائیں ڈانٹ ڈانٹ کر ٹھیک کرنے کی جتنی مرضی کوشش کر لیں کبھی بھی نہیں ہوتا بلکہ بعض دفعہ بغاوت پیدا ہوتی جاتی ہے ضد ہوتی چلی جاتی ہے۔میں جب دورے کرتا ہوں تو بسا اوقات مائیں ایسے بچوں کو لے کر آتی ہیں کہتی ہیں ہماری تو بات ہی نہیں مانتا،