خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 886 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 886

خطبات طاہر جلد 15 886 خطبہ جمعہ 15 رنومبر 1996ء ماده از خود جاگ اٹھے گا تو آپ سمجھیں گے کہ آپ کام کر رہے ہیں، دراصل اللہ کی تقدیر کام کرتی ہے گویاTakeover کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ اور پھر اسے کھینچ کر اپنی طرف لے آتا ہے۔چنانچہ یہ آیت اس مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے یوں بیان کرتی ہے۔وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ پھر جسے اللہ تعالیٰ پسند کرنے لگتا ہے اسے صِرَاطٍ مُّسْتَقِیم کی طرف لے آتا ہے۔مَنْ يَشَاءُ میں کون مَنْ ہے۔لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا یہ جو فعل ہے اللہ تعالیٰ کا يَهْدِى مَنْ يَشَاءُ ، يَهْدِي لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا ہے اصل میں ”ل “ کا تعلق يَهْدِی سے لگتا ہے اور بھی اس میں مضامین ہیں اگر وقت اجازت دے گا تو میں اس کو سمجھاؤں گا لیکن پہلی بات یاد رکھیں کہ اللہ ان کو ہدایت دیتا ہے جو اَحْسَنُوا جو اپنی بدیوں کو دور کر کے حسن میں تبدیل کرتے ہیں۔اَحْسَنُوا کا جو لفظ ہے یہ بہت وسیع معنی رکھتا ہے، ایک یہ کہ وہ لوگ جو احسان کریں کسی پر ان کا اللہ مددگار بن جاتا ہے۔دوسرا یہ کہ وہ دوسروں کی بدی کو دور کر کے حسن میں تبدیل کریں۔تیسرا یہ کہ اپنے حسن کو اور بھی زیادہ اجاگر کریں۔پس یہ تین چیزیں بیک وقت شروع ہونی چاہئیں اور ساتھ ساتھ چلتی رہنی چاہئیں۔پس لِلَّذِینَ کا ایک معنی تو یہ ہے کہ ہدایت ان کو دیتا ہے۔دوسرا آیت کا یہ ٹکڑا اپنی ذات میں ایک مکمل الگ مضمون بھی رکھتا ہے اور وہ اس طرح ہوگا کہ لِلَّذِینَ أَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَ زِيَادَةٌ وہ لوگ جو احسان کرنے والے ہیں ان کے لئے حُسنی ہے یہاں الحسنی جواب ہو جائے گا۔لِلَّذِینَ کا۔وہ لوگ جو احسان کرنے والے ہیں ان کا کیا ہے؟ ان کے لئے حُسنی ہے وَ زِيَادَةٌ بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے۔اب حسنی کیا ہوتی ہے۔حُسنی کا عام معنی تو ہے اچھی بات لیکن اہل لغت بیان کرتے ہیں کہ حُسنی کسی خوبی کا درجہ کمال تک پہنچنا ہے اور اس کو Superlative Degree جو انگریزی میں کہا جاتا ہے وہی حُسنی پر بھی صادق آتا ہے۔افضل اور تفصیل کا جو صیغہ ہے، جو معنی اس میں پائے جاتے ہیں وہ حُسنی لفظ میں پائے جاتے ہیں سب سے اچھی ،سب سے اعلیٰ۔تو لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا اگر آپ اَحْسَنُوا فعل کو الگ بیان کر کے ذرائ کیں اور پھر کہیں الحُسنی ان کے لئے حُسنی ہے تو گویا آیت کا یہ ٹکڑا اپنی ذات میں مکمل آیت بن جاتی ہے اور یہ ایسی بات ہے جس کو کھینچ تان کر بنانے کی ضرورت نہیں بعینہ یہی معنی اس کے اندر داخل ہے۔پس لِلَّذِينَ