خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 844
خطبات طاہر جلد 15 844 خطبہ جمعہ یکم نومبر 1996ء باتیں کرتے ہیں جو ان کے ضمیر کے مطابق مناسب نہیں ہوتیں مثلاً عورتوں پر ظلم، سفا کی ، مینی ازم ، ایک شخص نے اسلام کے خلاف کتاب لکھی کوئی اور ملک اپنے دائرہ سیاست سے باہر نکل کر باقی ملکوں کی سرحدیں پھلانگتا ہوا اس ملک میں پہنچتا ہے اور اپنا فتویٰ جاری کرتا ہے۔یہ وہ ایسی باتیں ہیں جو سراسر خلاف عقل ہیں اور چونکہ اسلام کی نمائندگی کرنے والے ان باتوں میں ملوث ہو گئے ہیں اس لئے ان کو بہترین موقع مل گیا ہے اور وہ جب یہ حملہ کرتے ہیں تو ہمارے نو جوانوں کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ایک یہ ان کو خطرہ عقائد کی طرف سے ہے۔ایک اعمال کی طرف سے یہ خطرہ کہ جہاں جہاں دہریت بڑھی ہے وہاں وہاں جنسی تعلقات میں جو بھی پابندیاں ہیں وہ اٹھتی چلی گئی ہیں یہاں تک کہ جنسی بے حیائی بالکل ایک عام ایک مسلم چیز بن گئی جس کو اب بے حیائی سمجھا ہی نہیں جاتا۔اب وہ نوجوان جو اٹھتی ہوئی عمر میں ایسے ماحول میں آنکھیں کھولتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں جن کو ایک طرف ان کے مذہب کے وہ بظاہر نقائص دکھائے جاتے ہیں جن نقائص کی تائید اس مذہب کے بڑے بڑے سر براہ ، اس دنیا میں مسلمان حکومتوں کے سربراہ وہ پوری طرح اپنے عمل سے کرتے ہیں اور ان کے پاس کوئی جواب نہیں اس کا۔ان کے اندر یہ تجزیہ کرنے کی توفیق نہیں کہ یہ مذہب کے داغ نہیں ہیں یہ انسانوں کے داغ ہیں جو مذہب کی طرف منسوب ہورہے ہیں۔دوسری طرف جوانی کا الہڑ پن اور طبعی جذبات جو جوش میں ہوتے ہیں ان کے لئے ماحول سازگار ، جو چاہیں کریں کوئی اخلاقی اعتراض نہیں اٹھ سکتا۔زیادہ سے زیادہ یہ کرنا ہوگا کہ گھر چھوڑ کر سوشل جو ان کے سٹم ہیں بچوں کی حفاظت کے نام پر ان کی پناہ لے کر اپنا دین بھی گنوائیں اپنی دنیا بھی گنوادیں اور چونکہ یہ ایک کھلی راہ ہے اس لئے خود سری کا رجحان بچوں میں بڑھتا چلا جاتا ہے اور اس رجحان کو مسلمانوں میں اور ایشیائیوں میں وہ عمداً تقویت دیتے ہیں۔یہ وہ خطرات ہیں جو چند ہیں جو میں نے بیان کئے ہیں جن کے پیش نظر ضرورت تھی کہ ہر بچے تک ان پہلوؤں سے اصل حقیقت حال کھولی جائے ، اس مضمون کا تجزیہ کیا جائے اور بتایا جائے کہ اس میں کیا غلطیاں ہیں، اصل حقیقت کیا ہے اور یہ چیز ہر گھر پہنچ کر اور ہر بچے تک پہنچ کر ایسے الفاظ میں بیان کرنا کہ جو دلوں کو مطمئن کرے بہت مشکل کام ہے۔MTA کے ذریعے خدا تعالیٰ کے فضل سے جو ہمارے سوال وجواب کی بے تکلف مجالس ہیں ، دہر یہ بھی، کٹر عیسائی بھی ، دوسرے شمال