خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 843 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 843

خطبات طاہر جلد 15 843 خطبہ جمعہ یکم نومبر 1996ء ظلم ہے خواہ وہ جانتے ہوں کہ یہ عقیدہ اور یہ عمل انسانی قدروں سے متصادم ہے، ٹکرا رہا ہے۔جہاں ایک دفعہ عقل کو خیر باد کہہ دیا تو پھر باقی کیا رہے گا۔پس یہی سلسلہ اسی طرح شمال کی طرف آگے بڑھتا ہے وہاں عقل اور فہم کو زیادہ اہمیت ہوتی چلی جا رہی ہے اور مذہب جو رڈ ہورہا ہے وہ در حقیقت عیسائیت کی بگڑی ہوئی صورت رڈ ہوتی ہے اس لئے بہت ضروری ہے کہ ہم ایسے ممالک میں حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے اصل مرض کو پہچان کر اس کے مطابق اس کا علاج کریں۔یہ اس صورت حال میں، اب MTA کی طرف واپس آتا ہوں کہ ہمارے بچے جو وہاں پل رہے تھے ، نو جوان جو کالجوں اور سکولوں میں جاتے تھے ان کے سامنے ایک عجیب تضاد کی صورت تھی ، ایک طرف عیسائی اپنے بگڑے ہوئے اور فرضی عقائد کی طرف بچوں کو سکول میں اپنی طرف بلاتے تھے اور یہ بھی ایک عجیب تضاد ہے ان ملکوں میں کہ عیسائیت کو اسلامی ممالک کے خلاف ایک ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس پہلو سے دہر یہ بھی ہوں تو وہ عیسائیت کے فروغ میں کوشش کرتے ہیں اور حکومتیں عیسائیت کی پشت پناہی کرتی ہیں۔بہت سے ایسے ان کے سربراہ یعنی سر براہ مراد ہے شعبوں کے سر براہ مجھے ملے، مختلف شعبوں کے ان کا خود کوئی عقیدہ نہیں تھا لیکن عیسائیت کو فروغ دینے میں پوری طرح وہ حکومت کی پالیسی کے ساتھ تھے۔تو یہ تضادات کی دنیا ہے جس میں ہم رہ رہے ہیں جہاں صداقتیں مجروح ہوگئی ہیں مختلف حصوں میں بٹ گئی ہیں اور اس کے نتیجہ میں ہماری وہ نسلیں جو ایسے ممالک میں پرورش پا رہی ہیں ان کے لئے کئی قسم کے خطرات ہیں۔ایک ان کا یہ طریق تھا کہ عیسائیت کے وہ پہلو جو عقل کے بالکل خلاف ہیں ان سے گزرتے ہوئے جیسے بائی پاس سڑکیں بنائی جاتی ہیں،شہروں میں داخل ہوئے بغیر باہر باہر سے نکل جاؤ ، ان تمام مقامات سے گریز کرتے ہوئے عیسائیت کو اس طرح پیش کرتے ہیں محبت ہے، عفو ہے اور اس سے بہتر حسن اور کیا ہو سکتا ہے عیسی کی قربانی ہے اس نے سب کچھ اپنا بنی نوع انسان کے لئے خرچ کر دیا۔تو یہ وہ مضامین ہیں جو فطرتا ہر انسان کے اندر موجود ہیں اور ان کے ساتھ ایک فطری علاقہ اور ایک تعلق ہے اور جہاں تک عیسائیوں کے عقائد کی بھیانک نامعقولیت ہے اور تضادات ہیں ان کی طرف وہ نہیں آتے بلکہ اسلام کے اندر جو ان کو تضاد دکھائی دیتے ہیں ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور جرمنی میں بھی میرا یہی تجربہ ہوا۔وہاں بھی بچوں سے اسلام کے خلاف ایسی