خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 845
خطبات طاہر جلد 15 845 خطبہ جمعہ یکم نومبر 1996ء جنوب کے آدمی سوال کرتے ہیں اور ان کی تصویر دکھائی جاتی ہے اور سوال کا جواب سنتے ہوئے ان کے سرتائید میں ہلنے لگتے ہیں۔تو ہماری نوجوان نسلوں کو ایک احمدی مربی کی باتیں اتنا مطمئن نہیں کرتیں جتنا یہ نظارہ کہ جو ہم پر اعتراض کیا کرتا تھا وہ تو خود اسلام کے حربے سے گھائل ہو رہا ہے، اسلام کی صداقت سے مرعوب ہو رہا ہے، دکھائی دے رہا ہے کہ وہ مان رہا ہے۔یہ غیر معمولی طاقت ور ایک دلیل ہے جو ان نوجوانوں کو مطمئن کرتی ہے اور اسی وجہ سے MTA کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے فضل سے جو تبلیغی کام ہے اس کو ایک طرف بھی رکھ دیں تو تربیت کے کاموں میں غیر معمولی سہولت حاصل ہوئی ہے۔ناممکن تھا کہ ہر گھر میں کوئی مطمئن کرنے والا مربی پہنچ سکتا، پہنچتا بھی تو اس کے لئے مشکل تھا اور عملاً اگر آپ مربی کا نو جوانوں سے رابطہ دیکھیں جس کا میں نے تفصیلی جائزہ لیا ہے تو گنتی کے چند نو جوان ہیں جن تک مربی کی رسائی ہوا کرتی ہے۔وہ اپنے آزاد دائروں میں گھومتے پھرتے ہیں اور عام طور پر مربی ان کے پاس نہیں پہنچتا وہ مربی کے قریب نہیں پھٹکتے لیکن جب گھروں میں ٹیلی ویژن پہنچ جائے اور ایک ایسی اس میں قوت پیدا ہو جائے جس کی وجہ سے نو جوان بھی کبھی نہ کبھی اس کو دیکھنے پر مجبور ہو جائیں اور یہ قوت پیدا ہوئی ہے بچوں کی وجہ سے۔بچے تو MTA کے عاشق ہورہے ہیں ، ہر جگہ دنیا میں سوائے امریکہ کے بعض علاقوں کے اور اس تعلق میں میں قول سدید کے فقدان کی بعض مثالیں آپ کے سامنے رکھوں گا۔اکثر ماں باپ نو جوانوں نے یہ بتایا کہ ہمارے بچے تو ٹیلی ویژن پر خاص طور پر آپ کے پروگرام آتے ہیں اردو کلاس اور اس کو انہوں نے سوشل پروگرام بنایا ہوا ہے، اردو سمجھ آئے نہ آئے مزہ بہت اٹھاتے ہیں بچے اور دوسرے جو متفرق بچوں کے نغمے لڑکیوں کے لڑکوں کے وہ ایسا کھینچے جاتے ہیں اس طرف کہ اس کے مقابل پر کوئی دوسرا پروگرام کسی کو دیکھنے ہی نہیں دیتے ، شور ڈال دیتے ہیں کہ ہم نے یہی دیکھنا ہے۔تو دیکھو خدا تعالیٰ نے بچوں کے ذریعے بڑوں کی تربیت کا کیسا انتظام کروا دیا اور اکثر جب بڑے ایک دفعہ دیکھ لیں تو پھر وہ لازماً درد یکھنے کی طرف مائل ہوتے ہیں پھر اور دیکھنے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ایک تو یہ پہلو تھا جس پہلو سے خدا تعالیٰ کے فضل سے MTA کی بہت سی برکتیں میرے مشاہدے میں آئیں اور دل بہت مطمئن ہوا اور اس یقین سے مزید بھر گیا کیونکہ یقین ہمیشہ بڑھتا ہی رہتا ہے، سچائی پر یقین بڑھتارہتا ہے ایک مقام نہیں جہاں ٹھہر جائے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی خاص تقدیر