خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 808 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 808

خطبات طاہر جلد 15 808 خطبہ جمعہ 18 اکتوبر 1996ء اس کے پیچھے چلنے کا ادعا لے کر ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی اور جو منزل ہے وہ آپ نے دیکھ لیا کہ کتنی دور کی ہے۔اس لئے یہ خیال کر لینا کہ اس منزل تک پہنچیں گے تو پھر تبلیغ شروع کریں گے حد سے زیادہ بے وقوفی ہوگی کیونکہ وہ منزل نہ آپ کے ہاتھ آنی ہے نہ کہیں تبلیغ ہوگی۔اپنے وجود کو ضائع کر دیں گے اور جو کچھ ہاتھ میں ہے وہ بھی جاتا رہے گا۔اس لئے یہ مقصد، یہ مضمون کہ آپ اپنے نفس کو خدا کی طرف بلائیں اور اس کے نتیجہ میں عمل صالح پیدا ہو اور آپ کی آواز میں طاقت پیدا ہو ہرگز آپ کو اجازت نہیں دیتا کہ جب تک آپ یہ نہ سمجھیں کہ آپ نے اپنی سب بدیاں دور کر دی ہیں اور سب نیکیاں حاصل کر لیں اس وقت تک آپ کو میدان عمل میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔اس کا مطلب ہے کہ تمام دنیا میں سوائے آنحضرت ﷺ کے کسی کو تبلیغ کا حق نہیں رہتا پھر کیونکہ اس مرتبہ کو جو آنحضور ﷺ نے حاصل فرمایا آپ کے صحابہ بھی نہیں پہنچ سکے تھے بڑے سے بڑے صحابہ بھی بہت پیچھے رہ گئے تھے تو اس لئے یہ وہم دل سے نکالیں لیکن وہ مضمون اپنی جگہ اہم ضرور ہے۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اصلاح نفس کے بغیر آپ دنیا کی اصلاح کے لئے قدم اٹھا سکتے ہیں۔پس ان دونوں کے درمیان توازن کا قیام ضروری ہے اور یہی بات ہے جو میں آپ کو سمجھا کر حوصلہ دینا چاہتا ہوں کہ جتنے قدم بھی آپ اپنے نفس کی اصلاح کی طرف اٹھائیں گے اور دعا کر کے توجہ سے اٹھا ئیں گے اس کا نتیجہ ضرور ظاہر ہوگا۔یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ دعائیں کرتے ہوئے اپنی بدیوں کو کم کرنے کی کوشش کریں، اپنی نیکیوں کو بڑھانے کی کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ آپ کا ساتھ نہ دے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ خدا کی طرف جو ایک قدم بڑھاتا ہے اللہ اس کی طرف دس قدم بڑھاتا ہے۔پہلے فرمایا ایک بالشت بڑھاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی طرف کئی قدم بڑھاتا ہے اور چل کے جاتا ہے تو وہ دوڑ کے آتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری دعاؤں کے نتیجے میں جو ہمیں پھل ملتا ہے وہ ہماری کوششوں سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔پس اپنے نفس کا جائزہ لیں۔ہر انسان بے شمار کمزوریوں میں مبتلا ہے اور یہ ایک فیصلے کا دن ہونا چاہئے کہ آج کے بعد میری زندگی کا سفر کمزوریوں سے دوری کا اور نیکیوں کے قرب کا سفر ہوگا۔جس دن آپ یہ فیصلہ کر لیں اسی دن آپ کو دعوت الی اللہ کی توفیق ملے گی اور دعوت الی اللہ کا حق