خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 807 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 807

خطبات طاہر جلد 15 807 خطبہ جمعہ 18 اکتوبر 1996ء علیہ الصلوۃ والسلام کی آنکھ سے دیکھیں تو مزہ آتا ہے ورنہ باہر کی سطح پر ہی نظریں گھومتی رہتی ہیں۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں جن کو مرتبہ حاصل ہوا کہ جیسے حضرت محمد رسول اللہ نے اللہ کے گھر کے اندر کی راہ دکھائی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات میں اس کا مطالعہ کریں نظموں میں اس کا مطالعہ کریں تو انسان اگر یہ سوچے کہ میں نے اس نبی کی پیروی کرنی ہے تو لرز جائے گا۔تصور میں بھی نہیں آسکتا کہ انسان ساری زندگی کبھی اس نبی کی پیروی کرتے ہوئے حقیقت میں پیروی کا حق ادا کر سکے۔یہ باتیں روحانی دنیا کی باتیں ہیں۔بہت سے آدمی شاید اس کو نہ سمجھ سکیں مگر عام دنیا میں آپ روز مرہ کا تجربہ رکھتے ہیں۔ایک دنیا کا چیمپیئن کسی کھیل میں بھی ہو آپ جب اس کو جیتتا ہوا دیکھتے ہیں اور بڑے بڑے چیمپیئنز کے سامنے، بڑے بڑے دنیا کے ہیروؤں کے اور چیمپیئنز کے ساتھ اس کے مقابلے دیکھتے ہیں تو حقیقت میں آپ کو اندازہ نہیں ہو سکتا کہ وہ کتنا بڑا انسان ہے اس نے اپنی کھیل میں کتنا بڑا مرتبہ حاصل کیا ہے۔جن ملکوں کو ہرا کر وہ اوپر آیا ہے ان ملکوں کے چیمپیئنز کے متعلق بھی آپ تصویر نہیں کر سکتے کہ وہ آپ سے کتنا آگے ہیں اور وہ جب اپنے ملک میں جیتے ہیں تو اپنے ملک میں جن کو ہراتے ہیں ان کا بھی آپ صحیح تصور نہیں کر سکتے۔جو آپ کے ضلع اور آپ کی تحصیل، آپ کی کاؤنٹی میں جو چیمپیئن ہیں ان سے دو دو ہاتھ کر کے دیکھیں تب آپ کو پتا چلے گا کہ ان کے مقابل پر آپ کی کچھ بھی حیثیت نہیں ، کچھ بھی مقابلہ ممکن نہیں ہے۔عام روز مرہ کے آدمی کی بات کر رہا ہوں وہ اپنے ضلع کا چیمپیئن چھوڑ کے اپنے سکول کے چیمپیئن سے مقابلہ نہیں کر سکتا۔اب دیکھیں درجہ بدرجہ ان لوگوں کا مقام کتنا بلند ہو چکا ہے جو عالمی مقابلوں میں اول مقام پر پہنچتے ہیں اور آپ گھر بیٹھے آرام سے دیکھ رہے ہیں۔اس کی غلطیاں بھی دیکھتے ہیں اس کی کامیابیاں بھی تبصرے بھی کرتے ہیں کہ یہ کرتا تو بہتر تھا، یہ ہوتا تو اچھا ہوجا تا لیکن کوئی تصور بھی نہیں کر سکتے حقیقت میں کہ آپ کے اور ان کے درمیان فاصلے کتنے ہیں۔روحانی دنیا میں تو یہ تصور اور بھی زیادہ مشکل ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کسی ایک دور کے چیمپین نہیں ہیں کل عالم کے ہر دور کے چیمپین ہیں تو ایسا وجود جس کو خدا یہ قرار دے دے کہ تمام زمانوں میں ، ہر ملک میں، ہر قوم میں جب سے دنیا بنی ہے جب تک دنیا قائم رہے گی اس وقت تک تو ہی ہے جو سب پر بالا رہے گا اور سب پر فائق رہے گا