خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 806
خطبات طاہر جلد 15 806 خطبہ جمعہ 18 اکتوبر 1996ء وقت تک قرآن مجھے دعوت الی اللہ کا حق نہیں دے رہا، یہ بالکل غلط استنباط ہے کیونکہ نفس کی اصلاح تو ایک لا متناہی سلسلہ ہے، نہ ختم ہونے والا۔اس کا ماڈل جو قرآن کریم نے ہمارے لئے مقرر فرمایا وہ حضرت اقدس محمد مصطفی می ﷺ اور آپ کے عقب میں چلنے والے تمام انبیاء ، آپ کے عقب میں چلنے والے ان معنوں میں کہ صفات حسنہ میں قرب الہی کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ نے جو نمونے قائم فرمائے کوئی نبی ان سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔پس زمانے کے لحاظ سے وہ پہلے تھے مگر چلنے کے لحاظ سے وہ پیچھے رہ گئے۔ان معنوں میں یہ کوئی فرضی بات نہیں ہو رہی ایک حقیقی تعریف ہے جو سو فیصد درست ہے کہ آنحضرت ﷺ کے عقب میں تمام انبیاء کا سفر ہے اور صراط مستقیم کا جو پہلا گروہ ہے وہ یہی ہے جو آگے آگے بڑھ رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیں دعا سکھاتا ہے۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ وَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحه: 6,7) کی پیروی کرنی ہے جو اتنا آگے بڑھ چکے ہیں کہ بلا شبہ آنحضرت ﷺ کی صفات حسنہ کا نیک سے نیک انسان بھی حقیقی تصور نہیں کر سکتا سوائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت یافتہ ہو اور اس دور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے غلام احمد کا لقب دے کر آپ کو اس کام پر مامور فرمایا صلى الله اور آپ کو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت حسنہ میں اس طرح جھانکنے کی توفیق عطا فرمائی کہ پہلے کبھی کسی نے اس پیار اور محبت اور اس قرب کے ساتھ آپ کی سیرت کا سفر نہیں کیا تھا۔آپ کی سیرت کے مطالعہ میں کوئی فرق نہیں ہوا تھا جیسا کہ حضرت مسیح موعود آپ کی سیرت کے مطالعہ میں اللہ کی توفیق سے غرق ہوئے ہیں یعنی ایسی دنیا میں چلے گئے جو ہمیشہ کے لئے آپ کی دنیا بن گئی۔آپ کا کوئی مضمون ، آپ کی کوئی تحریر، نثر ہو یا نظم ہو اس ذکر سے خالی نہیں ملتی کہ جو کچھ آپ نے پایا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے پایا۔پس اللہ کی تعریف کے بعد بار بار حضرت رسول اللہ صلى الله کی طرف لوٹتے ہیں اور سمجھاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا قرب مجھے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی وساطت سے ملا ہے۔یہ وہ ہے جو اندر کی راہ دکھاتا ہے۔یہ باہر دروازے تک نہیں پہنچا تا۔یہ وہ رسول ہے جو ہاتھ پکڑ کر اندر لے جاتا ہے اور حسن کی بارگاہ کے سامنے کھڑا کر دیتا ہے۔پس اس پہلو سے آنحضرت ﷺ کا بلند مرتبہ، عالی مقام اور وہ منزل جس منزل پر آپ ہم سے آگے جاپہنچے ہیں اس کا کوئی تصور عام انسان نہیں کر سکتا۔ہم بھی جوں جوں آپ کے حسن کا مطالعہ کرتے ہیں حضرت مسیح موعود