خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 789 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 789

خطبات طاہر جلد 15 789 خطبہ جمعہ 11 اکتوبر 1996ء میں بہت آگے بڑھے ہوئے ہیں اور ان کے بھی تعلیمی ادارے ہیں زیادہ تر جو دہریت کی آماجگاہ ہیں۔اس وجہ سے ان کو خدا تعالیٰ کے دین کی طرف بلانا ایک مشکل کام ہے اگر اس کا سلیقہ نہ ہواگر انسان صورت حال کا تجزیہ کر کے مناسب رستے اختیار نہ کرے اس وقت تک جب تک ایسا نہ ہوان لوگوں کو اسلام کی طرف بلا نا ممکن نہیں ہے۔بہت طرح سے، بہت طریقوں سے ان جگہوں پر کوششیں کی گئیں اور ان سارے ممالک میں وہی ایک ہی رد عمل ہے یعنی سوئٹزرلینڈ ہو یا ڈنمارک یا سویڈن یا ناروے۔جو قسمت سے پھل ملتا ہے وہ اللہ کے فضل سے اچھا ہوتا ہے لیکن بہت شاذ کے طور پر ملتا ہے اور جماعتی لحاظ سے ان چاروں ممالک میں کوئی مقامی ایسےمخلصین پیدا نہیں ہو سکے جو اپنی جماعت بنا سکیں اور جن کو کہا جاسکے کہ یہ اس ملک کے باشندے ہیں اور ملک کے باشندوں کے لحاظ سے ان کی ایک بڑی جماعت ہے۔کہیں کچھ آتے بھی ہیں تو چلے بھی جاتے ہیں اور آکر قرار پکڑنے والے جو ہیں اگر چہ ان کا معیار اللہ کے فضل سے بہت اونچا ہے اور وہ بچے خدا کے مخلص بندے ہیں لیکن شاذ کے طور پر ہیں، بہت ہی کم تعداد ہے۔اس پہلو سے فکر کی بات ہے لیکن مایوسی کی بات نہیں۔فکر کی اس پہلو سے کہ ہمیں معلوم کرنا چاہئے کہ کون سے طریق ہیں جن سے ان قوموں کو دین کی طرف بلایا جاسکتا ہے۔اس آیت کریمہ سے متعلق ، جس کی میں نے تلاوت کی ہے، میں پہلے بھی اس مضمون پر روشنی ڈال چکا ہوں کہ قرآن کریم نے کسی حکمت کے پیش نظر دعوت اسلام کا ذکر نہیں فرمایا، کسی مذہب کا نام نہیں لیا بلکہ دعوت الی اللہ کا ذکر فرمایا ہے اور آنحضرت ﷺ کو بھی داعی الی اللہ کے طور پر پیش فرمایا گیا ہے۔اس میں بہت گہری حکمت ہے اور بہت بڑی غلطی ہوگی اگر ہم اس حکمت کو نظر انداز کر کے کوئی تبلیغی منصوبہ بنا ئیں۔وہ قومیں جو مذہب سے دور جا چکی ہیں ان میں بہت حد تک ان مذاہب کے بگڑے ہوئے عقائد کا تعلق ہے جو ان کی عقل سے متصادم ہو چکے ہیں۔پس ان کا دہر یہ ہونا ویسا قصور نہیں جیسا کہ سرسری نظر سے دکھائی دیتا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اگر ایک مذہبی پس منظر بگڑ چکا ہو،اگر اس میں سے معقولیت کلیۃ خارج ہو چکی ہو، اگر انسانی سوچ اور فکر سے مذہبی عقائد متصادم ہو جائیں تو ایسی جگہوں میں مذہب کا پایا جانا ان کی خوبی نہیں ہے بلکہ ان کی دماغی حالت کے خلاف ایک الزام ہے کہ یہ بڑے بے وقوف اور کم نظر