خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 722
خطبات طاہر جلد 15 722 خطبہ جمعہ 13 ستمبر 1996ء ہے، خدا جا سکتا ہے۔تو یہ دو ٹوک بات ہے اس کے سوا تمہارا چارہ ہی کوئی نہیں ہے۔جو مرضی کر لو سر پیٹتے رہو ساری عمر، چھاتیاں پیٹ مگر جانے والا واپس نہیں آئے گا تم ضرور جاؤ گے۔ایسی حالت میں نہ جاؤ کہ جانے والا تمہیں وہاں بھی نہ ملے کیونکہ تم خدا و گنوا بیٹھے ہو تو اس کے سوا اور کوئی حل ہی نہیں ہے اس کا۔اگر اس مضمون پر انسان غور کرے تو تکلیف ہوتی ہے مگر تکلیف پر اس کا رد عمل ایک مثبت ردعمل ہوگا وہ ضائع نہیں ہوسکتا بلکہ ہر ایسی تکلیف جس کو خدا کی خاطر وہ برداشت کرتا ہے اس کے لئے بھی جزائے خیر پر منتج ہوتی ہے۔اللہ تعالی اس سے اس کے کئی گناہ جھاڑ دیتا ہے ، کئی گناہوں کی پردہ پوشی فرماتا ہے کئی ایک سے اعراض فرما دیتا ہے اور پھر اصلاح فرما دیتا ہے اس کی۔یہ بہت سے فوائد ہیں جو کسی کھوئی ہوئی چیز کے وقت جو رد عمل انسان میں پیدا ہوتا ہے اس سے وابستہ ہوتے ہیں اور اگر صحیح ردعمل نہ ہو تو جو کچھ ہے وہ بھی گیا۔جو کچھ تھا وہ تو جا چکا، جو کچھ ہے وہ بھی جاتا رہے گا اور رونے پیٹنے کے سوازندگی اور کسی کام نہیں آئے گی اور مرنے کے بعد اور بھی زیادہ رونا پیٹنا ہے۔بڑا ہی بے وقوف ہے جو دنیا کی بے ثباتی کے مضمون کو نہیں سمجھتا۔دو چار اوپر تلے چلے گئے تو کیا دو چار دس ہزار سال میں نکل گئے تو کیا۔یہ قطعی بات ہے کہ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ہم اللہ ہی کے ہیں اسی کی طرف ہم نے جانا ہے آج نہیں گئے تو کل گئے اس لئے دوسروں کی فکر کی بجائے جب کوئی مرے اپنی فکر کیا کرو۔یہ ہے بے ثباتی کا مضمون جو اِنَّا لِلہ نے ہمیں سکھلا دیا اور لوگ ان کی فکر کرتے ہیں اپنی نہیں کرتے۔خطرہ ہے کہ جب تم کسی کو جاتے دیکھو تو تم بھی ضائع نہ ہو جاؤ۔یاد رکھنا تم اللہ کے ہو اللہ ہی کی طرف سے آئے تھے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے سب سے بڑی فکر تو اپنی کرنی چاہئے۔آنحضرت ﷺ نے جو نماز جنازہ کی دعا سکھائی وہ عجیب ہے اللهم اغـفـر لـحـيـنــا وميتنا مرنے والوں کو بعد میں رکھا ہے زندہ کو پہلے کر دیا۔فرمایا مرنے والے کی اب تم کیا فکر کرو گے وہ تو چلا گیا ہاتھ سے۔سب سے زیادہ ضرورت ہے زندوں کی بخشش کی دعا مانگو کہ وہ مرنے سے پہلے بخشے جاچکے ہوں۔مرنے کے بعد دعائیں بھی کام آتی ہیں مگر وہ دعا جو زندگی میں کسی کو بخشوا دے اس سے بڑھ کر اور کوئی دعا نہیں ہو سکتی اور پھر غائب سے پہلے شاہد کو کر دیا وشاهدنا وغائبنا مرنے والے غائب ہو گئے ہیں لیکن جو موجود ہیں ان کی فکر کرو کہ اللہ ان کو صحیح حال پر قائم رکھے یہاں تک کہ جب وہ مر رہے ہوں تو ایمان پر جان دینے والے ہوں۔پس آنحضرت ﷺ کی دعا ئیں بھی قرآنی