خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 721
خطبات طاہر جلد 15 721 خطبہ جمعہ 13 ستمبر 1996ء الله شخص مامون و محفوظ نہیں ہے۔اگر کسی دماغ میں یہ وہم و گمان کا کیڑا اپنی پیدائش میں ہی کروٹ بدل رہا ہو یعنی ابھی پیدا بھی نہ ہوا ہو اور پیدائش کی حالت میں اس کا بیج بن رہا ہو تو ہمیشہ یادر کھے اس دعا کو جو رسول اللہ ﷺ اپنے لئے کیا کرتے تھے کہ اے خدا مجھے نیکی پر ثبات عطا فرما، مجھے ہدایت پر قائم رکھنا۔تو آپ کی اس نیکی کی کیا ضمانت ہے؟ آپ کی تو کوئی حیثیت نہیں۔آپ کی تو نیکی میں ایسی بدیاں لگی رہتی ہیں جو گھن کی طرح آپ کی نیکیوں کو کھاتی چلی جاتی ہیں۔ہم میں سے ہر ایک کا یہی حال ہے، کوئی بھی مستثنیٰ نہیں ہے۔تو اس کا بغیر دعا کے سہارے کے اور بغیر ہمیشہ اس بات پر مستعد رہنے کے کبھی نیک انجام نہیں ہوسکتا کہ وہ دیکھتا رہے کہ میرے اعمال اب کس رخ پر ہیں۔کیا میرا رخ مسلسل ہدایت کی طرف آگے کی طرف ہے یا نہیں ہے اور دنیا سے میرا کتنا تعلق ہے۔دنیا سے تعلق کے مضمون میں ہر چیز کا اپنا اپنا ایک امتحان ہے جو انسان کو در پیش رہتا ہے۔کبھی عام طور پر انسان سوچتا بھی نہیں۔بے ثباتی کا یہ مطلب نہیں کہ میں چلا جاؤں گا بے ثباتی کا تو یہ مطلب ہے کہ میرے تعلقات، میرے رشتے، میری کمائیاں مجھ سے چھٹ جائیں گی اور وہ بسا اوقات اس طرح بھی چھٹتی ہیں کہ آپ رہتے ہیں اور وہ چلی جاتی ہیں۔کبھی آپ دولتیں چھوڑ کر مر جاتے ہیں کبھی دولتیں آپ کی زندگی میں آپ کو چھوڑ کر چلی جاتی ہیں۔کبھی آپ اپنے پیاروں سے اچا نک جدا ہو جاتے ہیں اور کبھی آپ کے پیارے آنکھوں کے سامنے آئے دن آخرت کا سفر کرنا شروع کر دیتے ہیں اور آپ کو کوئی اختیار نہیں ہوتا۔بعض لوگ بڑے دردناک خط لکھتے ہیں کہ ہم پر تو ابتلاؤں کا ایک دور آ گیا ہے کل فلاں فوت ہوا آج وہ فلاں فوت ہو گیا، اب فلاں کی بیماری کی خبر ملی ہے اور یہ سلسلہ جو ہے وہ ایک سال سے یا دو سال سے ہم پر ابتلاؤں کا جاری ہے۔کبھی حادثات کا کوئی شکار ہو گیا تو مجھ سے پوچھتے ہیں ہم کیا کریں۔ان کو میں یہی کہتا ہوں کہ انا للہ جو ہے وہ صرف گنوانے کے مضمون میں نہ پڑھا کریں کہ ہاتھ سے چیز جاتی رہی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا انہ للہ جو مرنے والا ہے وہ اللہ کا تھا اس لئے چلا گیا یہ سکھایا انا للہ ہم اللہ کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کے جانے والے ہیں وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ۔تو ان کے لوٹنے کا غم کرنے کی بجائے اپنے لوٹنے کی فکر کیا کرو۔یہ سوچا کرو کہ تم ایسی حالت میں تو نہیں لوٹو گے کہ خدا کے بنے بغیر چلے جاؤ واپس۔جو مرنے والے تھے وہ تو اپنا حساب لے کر حاضر ہو گئے اگر ان کی خاطر تم واویلا کر کے خدا کو بھی ہاتھ سے گنوا بیٹھو تو انا اللہ کیسے پڑھو گے اور اگر واویلا کرو گے تو وہ تو آہی نہیں سکتے ،ناممکن