خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 723
خطبات طاہر جلد 15 723 خطبہ جمعہ 13 ستمبر 1996ء تعلیم کے رنگ ہی میں رنگی ہوئی ہیں۔کہیں بھی آپ ان میں کوئی قرآن سے فرق نہیں دیکھیں گے۔ان کے اندر قرآن ہی کا رنگ ہے جو مختلف صورتوں میں دکھائی دیتا ہے اور ایک ادنیٰ بھی کہیں آپ تضاد نہیں دیکھیں گے آنحضرت ﷺ کی دعاؤں میں اور قرآنی تعلیمات میں بلکہ جوں جوں آپ غور کرتے چلے جائیں گے آپ حیران ہوتے چلے جائیں گے بلکہ حیرت کے سمندر میں غرق ہو جا ئیں گے کہ کتنی تفصیل کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی سوچیں قرآن کے ساتھ مطابقت رکھتی ہیں ایک ادنیٰ بھی کہیں اختلاف یا فرق دکھائی نہیں دے گا، ایک ہی کا ئنات ہے۔پس اس پہلو سے آنحضرت ﷺ کی نصائح پر بھی غور کریں تو یہی مضمون ہے جو میں بیان کر رہا ہوں۔ثبات دنیا کا مضمون بھی اسی طرح دکھائی دیتا ہے جیسا کہ قرآن پیش فرماتا ہے بلکہ آنحضرت ﷺ کی نصائح پر غور کرنے ہی سے حقیقت میں قرآن کا مضمون کھلتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔تفصیل سے بیان کر دیا ہے مگر ان کے لئے جو يَتَفَكَّرُونَ (انحل: 12) اس پر بھی تو غور کرو۔مضمون تو کھلا کھلا ہے لیکن تقومٍ يَتَفَكَّرُونَ ایسی قوم کے لئے جو فکر کرتی ہے اور ایسی کھلی بات نہیں ہے کہ ہر جاہل عالم کو برابر یکساں اچانک سمجھ آجائے گی۔ایسی بات جو سب کو برابر سمجھ آئے وہ سطحی ہوا کرتی ہے اور قرآن کریم سطحی باتیں بیان نہیں کرتا۔ایسی باتیں جو قر آنی حقائق ہیں جب وہ کھلی کھلی بھی ہوں تو ان میں گہرائی ہوتی ہے اس لئے اس کی سطح دکھائی دینے کی یہ مراد نہیں کہ آپ کو سب کچھ دکھائی دے گیا۔مراد یہ ہے کہ سطح دیکھو گے تو پھر نیچےڈو بو گے پھر اور نیچے ، پھر اور نیچے تمہیں تہ بہ تہ حقائق کی نہیں دکھائی دیں گی اور ہر اس تہہ میں مزید تم حقائق اور ہدایات کے موتی پاؤ گے ان کے جواہر جڑے ہوئے ہوں گے۔بے شمار مفادات ہیں جو قرآن کریم کی تہوں سے وابستہ ہیں جو اس کے بطن میں درجہ بدرجہ نیچے ڈوبنے سے دکھائی دیتی ہیں یا نظر آتی ہیں۔تو آنحضرت ﷺ کی نصائح کے ذریعے ہی ہم اس مضمون کو سمجھ رہے ہیں اور سمجھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اسی مضمون پر مختلف رنگ میں روشنی ڈالی کہ بے ثباتی کے ساتھ ، وہ دنیا جو بے ثبات ہے اس سے ایسا تعلق نہ جوڑ بیٹھو کہ تمہارے لئے دین ودنیا دونوں میں نقصان کا موجب ہو اور جب وقت آئے تو تم یہ دیکھو کہ تمہارا وجود کل بھی کسی فائدے کا نہیں تھا لمبی زندگی تم نے فائدے میں گزارنی ہو یہ تو اور مضمون ہے۔جا ایسی حالت میں رہے ہو کہ تمہارے پاس کچھ بھی نہیں رہا۔ساری سرسبزی جو ہے وہ پاؤں تلے روندے جانے