خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 716 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 716

خطبات طاہر جلد 15 716 خطبہ جمعہ 13 ستمبر 1996ء جب چاہے ان کو یوں پلٹ دے، جب چاہے انہیں یوں پلٹ دے کسی انسان کی کسی چیز کا بھی کوئی اختیار ایسا نہیں کہ وہ اس پر حقیقی ملکیت رکھتا ہو، حقیقی مالک صرف اللہ ہے۔تو آنحضرت ﷺ اس بلندی مرتبہ کے با وجود جہاں آپ کو آخرت کی سب سے بڑی بادشاہی عطا فرمائے گا ، وعدہ فرما دیا گیا، تمام انبیاء پر آپ کو ایک فوقیت بخشی گئی جو سب انبیاء کے سردار کے طور پر آپ کو بعثت ثانیہ، دوسری دنیا میں یعنی اخروی زندگی میں ایسے وعدے فرمائے گئے جن کا ٹلنا ناممکن ہے لیکن اس کے باوجود اپنا وہ مقام آپ نے نہیں چھوڑا کہ سب کچھ، جو کچھ بھی ہے اللہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے۔وہ جب اپنے فضل کو مجھ سے اٹھانا چاہے کوئی اس کا ہاتھ نہیں روک سکتا اور جس دل کی یہ قدر دانی ہورہی ہے وہ دل بھی تو اسی نے بخشا اور اسی کی طاقت اور اسی کی غلامی میں ہے جب وہ دل بدل دے تو کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔بہت بڑے بڑے نیک انسان بعض دفعہ زندگی کے آخری لمحوں میں پکے کا فر اور مرتد اور ناشکرے ہو کے مرتے ہیں۔اس کے برعکس بعض لوگ زندگی ضائع کر دیتے ہیں گناہوں اور بدیوں میں لیکن ان کا انجام ایسے حال میں ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دل کو یک دم پلٹتا ہے اور وہ دل کا پلٹنا ان کی کائنات میں ایک انقلاب برپا کر دیتا ہے، ایسا انقلاب برپا ہوتا ہے کہ ساری پرانی بدیوں کو وہ انقلاب کھا جاتا ہے، کالعدم کر دیتا ہے گویا ایک قیامت صغریٰ ہے جو ان کی ذات میں برپا ہوتی ہے۔پہلے سب اعمال، پہلی ساری زندگی مر کے مٹ جاتی ہے اور ایک نیا وجود ابھرتا ہے۔تو دنیا کی بے ثباتی کا نقشہ جو اس آیت میں کھینچا گیا ہے وہ بہت ہی اہم ہے ہمارے لئے اپنے اعمال کی جانچ کی غرض سے اور یہ شعور پیدا کرنے کے لئے کہ اس چند روزہ زندگی کے لئے ہم کیوں خواہ مخواہ دنیا میں لوگوں پر ظلم کریں، کسی کے مال چھینیں، کسی کا مال غصب کریں، کسی پر تکبر کے رنگ میں اپنی دولت کی برتری اور اپنی امارت اور اپنی حکومت کی برتری جتائیں اور اسی فخر کی حالت میں مر جائیں اور ایسی حالت میں مریں کہ جب بھی مریں گویا کل کچھ بھی نہیں تھا۔یہ جو آیت ہے گویا کل کچھ بھی نہیں تھا یہ ہر مرنے والے پر صادق آتی ہے۔جو کچھ بھی وہ کر چکا ہو، جو کچھ بھی کما بیٹھا ہو ، جب موت کی ساعت آتی ہے تو یہ جو قرآن کریم کا بیان ہے اس پر بعینہ صادق آتا ہے۔اس کی سوچ اس وقت اسے بتاتی ہے کہ ہیں یہ تو یوں ہاتھ سے نکل گیا گویا کل تک، کل بھی کچھ نہیں تھا ، کچھ بھی ہمارا نہیں تھا۔خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا (خواجہ میر درد)