خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 717
خطبات طاہر جلد 15 717 خطبہ جمعہ 13 ستمبر 1996ء درد کا یہ مصرعہ میں پہلے بھی بارہا پڑھ چکا ہوں کیونکہ بہت عارفانہ بات ہے۔مرتے وقت انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ خواب ہی تھی کچھ بھی نہیں تھی تو اس دنیا کے لئے اتنی جان مارنا کہ بنی نوع انسان پر ظلم کرنا بہانے بنا بنا کر ، ملک گیری کی ہوس کو پورا کرنا ، مظلوم قوموں کو دبانا اور طاقت کے نشے میں اپنے اردگر داپنے ماحول کے حقوق کو بھی غصب کرتے چلے جانا ، دولت کمائی ہے تو اتنی کماتے چلے جانا کہ ایک دنیا غریب ہو جائے آپ کی دولت کی وجہ سے آپ کو کوئی پرواہ نہ ہو اور آپ اس کو اکٹھے رکھتے چلے جائیں، ایک جگہ جمع کرتے چلے جائیں جو بنی نوع انسان کے فائدے میں کام نہ آئے یہ ساری انسانی زندگی کا خلاصہ ہے۔آج کی دنیا میں جتنی تباہیاں ہیں وہ اسی وجہ سے ہیں حکومتوں کے رویے کو دیکھیں انسانوں کے رویے کو دیکھیں۔قرآن کریم دولت کمانے کو منع نہیں فرما تا کیونکہ یہ سارا مضمون خاک سے زندگی پیدا کرنے کا اور اس کی نشو و نما کا مضمون ہے خدا کیسے کہہ سکتا ہے کہ تم بھی بڑھنے کی تمنا سے ہاتھ دھو بیٹھو یا دل سے نکال بیٹھو اور جہاں ہو وہیں کھڑے ہو کر جامد ہو جاؤ۔ہرگز اللہ تعالیٰ یہ تعلیم نہیں دیتا مگر یہ وہ مضمون ہے جو جاری اور ساری ہے۔آسمان سے پانی اترتا ہے اپنے آپ کو مٹی میں ملا دیتا ہے نئی زندگی کی صورت میں ابھرتا ہے اور سب کچھ ہونے کے بعد پھر وہ دوبارہ آسمان پر چڑھتا ہے اور پھر اسی سفر کو از سر نو دوبارہ شروع کرتا ہے وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرہ:4) کا ایک ایسا خوب صورت نظارہ ہے کہ جس کے بغیر زندگی قائم رہ ہی نہیں سکتی۔تو اللہ تعالیٰ نے یہ جو مثال دی ہے پانی کی اس میں یہ بھی سبق دے دیا کہ اگر تم خدا کی راہ میں خرچ کرو گے اور اعلیٰ مقاصد کی خاطر اپنی طاقتوں کو استعمال کرو گے تو یاد رکھو کہ یہ کبھی ضائع نہیں جائیں گی بار بار دوبارہ تمہارے ہی کام آئیں گی۔وہ پانی پھر آخر تم پر نازل کیا جائے گا جو تمہارے ہاتھ سے ایک دفعہ نکل جاتا ہے مگر دوسروں کو زندگی بخشتے ہوئے جائے گا۔ایک لامتناہی سلسلہ ہے فیوض کا جو جاری کرنے کے بعد پھر وہ پانی پلٹا کرتا ہے اور اگر ایک جگہ جمع ہو جائے ،ایک حوض میں بند ہو جائے تو سوائے تعفن کے وہ کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتا اور ایسا زہریلا ہو جاتا ہے پھر کہ اس میں زندگی بھی نہیں پنپ سکتی۔پس یہ کائنات کا نقشہ کہ آسمان سے پانی کا اترنا اور پھر بہتے چلے جانا، تمام فیوض بخش دینا اور پھر جو کچھ بھی اس نے کیا اس کے فائدے سے آخر وقت تک اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی