خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 715
خطبات طاہر جلد 15 715 خطبہ جمعہ 13 ستمبر 1996ء یہ فرماتا ہے کہ تمہارے اختیار میں آخر تک بھی دراصل کچھ نہیں ہے جب تک کہ تقدیر الہی تمہیں اجازت نہ دے اور تقدیر الہی اور اس کے منشاء کے بغیر تم اس تمام نظام کائنات سے یا نظام ربوبیت سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔پس آخری لمحے تک یہ خدا کا فضل ہے جو تمہارے لئے ربوبیت کے سامان کو مہیا فرماتا ہے اور تمہیں طاقت بخشتا ہے، تو فیق دیتا ہے کہ اس ربوبیت کے سامان سے فائدہ اٹھا سکو۔اس بے ثباتی کا تعلق زندگی کے دونوں پہلوؤں سے ہے مادی پہلو سے بھی انسان بہت کچھ بناتا ہے سوچتا ہے کہ میں اس سے یہ کروں گا وہ کروں گا مگر یہاں آتی آمرُ اللهِ ( انحل:2) ان معنوں میں آتا ہے کہ جب وہ سمجھتا ہے کہ سب کچھ بن گیا اور میرے قبضہ قدرت میں آگیا تو بعض دفعہ زندگی کے آخری لمحے اس کے لئے وہ حسرتیں لے کے آتے ہیں اس کا کچھ بھی نہیں ہوا ہوتا۔آئے دن ایسی خبریں ملتی ہیں کہ دنیا کی دولتوں کے پیچھے پڑنے والے بڑے بڑے دھو کے دے کر ، بڑے بڑے مال کما بیٹھے، اپنی مال و دولت کی سلطنتیں بنالیں ، آج کے اخبار میں بھی ایسے بعض اشخاص کا ذکر موجود ہے لیکن جو کچھ بنایا مرنے سے پہلے وہ حسرتوں میں تبدیل ہو گیا ،سب کچھ ہاتھ سے جاتا رہا اور سزا اور پکڑ کے سوا ان کے لئے کچھ باقی نہ رہا۔ایسے واقعات انگلستان میں بھی ، امریکہ میں بھی آئے دن منظر عام پر ابھرتے رہتے ہیں۔ہیں بہت زیادہ مگر ابھی دکھائی کم دے رہے ہیں لیکن ہوتا یہی ہے۔تقریباً ہر انسان کی زندگی کا تجربہ اسے بتاتا ہے کہ جن چیزوں پر بناء کر کے وہ توقع رکھتا ہے کہ ایک میرا بہت ہی شاندار مستقبل ہوگا طمانیت سے لبریز لذتوں سے بھر پور، وہ بسا اوقات ایسے دکھوں میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ جو کچھ اس نے کمایا تھا اس کے لئے طمانیت کا اور لذت کا موجب نہیں بنتا بلکہ سب کچھ بے کار چلا جاتا ہے۔الله صلى الله یہ جو دنیا کی بے ثباتی ہے اس کا مذہب سے بھی ایک تعلق ہے اور بہت گہرا تعلق ہے۔آنحضرت ﷺ ایک دعا کیا کرتے تھے۔آپ کی ایک زوجہ مطہرہ نے پوچھا کے یا رسول اللہ ﷺ ! آپ یہ دعا کیوں کرتے ہیں کہ اے خدا مجھے ہدایت پر ثبات بخشا جو سچائی ہے اس پر ثبات بخشا۔اب آنحضرت ﷺ جو تمام دنیا کے لئے ثبات کا نمونہ تھے ، آپ کے عجز وانکساری کا یہ عالم ہے خدا سے دعائیں کرتے ہیں کہ اے خدا مجھے ثبات بخشنا کیونکہ اس راز کو جو ان آیات میں بیان ہوا ہے آپ سے زیادہ کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا۔چنانچہ جب سوال کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دیکھو دل خدا کی دوانگلیوں میں ہیں