خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 714 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 714

خطبات طاہر جلد 15 714 خطبہ جمعہ 13 ستمبر 1996ء عَلَيْهَا اور زمین کے بسنے والے یہ خیال کرتے ہیں کہ اب وہ اس پر قدرت پاگئے ہیں وہ چیز ان کی ہوگئی ہے اتهَا أَمْرُنَا لَيْلًا اَوْنَهَارًا ہماری تقدیر نازل ہوتی ہے کبھی رات کے وقت کبھی دن کے وقت یا رات کو یا دن کو فَجَعَلْنَهَا حَصِيدًا كَانْ لَمْ تَغْنَ بِالْأَمْسِ اس طرح وہ کٹا ہوا جیسے فصل برباد ہو جائے اور کٹنے کے بعد خشک اور بھوسہ بن جائے اس کی مثال دی گئی ہے فَجَعَلْنَهَا حَصِيْدًا ایسی کٹ کے برباد ہو جاتی ہے کہ جیسے کل بھی نہیں تھی۔جو بھی نشو ونما کا دور ہے اس کی طرف تو دھیان دور کی بات ہے یوں معلوم ہوتا ہے کہ کل بھی یہ نہیں تھی کچھ بھی نہیں اس کا رہا باق - كَذلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ اسی طرح ہم ان لوگوں کے لئے جو غور کرنے کی عادت رکھتے ہیں اپنی آیات کھول کھول کر اور پھیر پھیر کر بیان فرماتے ہیں۔نُفَصِلُ میں تفصیل ہے اور دوسری جگہ قرآن کریم تصریف کا لفظ استعمال فرماتا ہے تو وہ تصریف براہ راست یہاں مذکور نہیں چونکہ اس مضمون کو تعریف کے حوالے سے بھی قرآن پیش فرما چکا ہے اور وہ بھی تفصیل کا ایک حصہ ہوتی ہے اس لئے میں نے معنا وہ ترجمہ کیا ہے ورنہ لفظا وہ موجود نہیں ہے، لفظا صرف اتنا ہے کہ اسی طرح ہم آیات کو خوب کھول کھول کر اور قابل فہم بنا بنا کر تمہیں دکھاتے ہیں۔اس سارے مضمون کا آخری مقصد کیا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اہل فکر کے لئے اس میں کون سی نشانیاں ہیں۔وہ کون ہیں جو فکر کر کے اس سے کچھ ایسی حقیقتیں پا جاتے ہیں جو ان کے لئے دین اور دنیا میں فائدہ مند ثابت ہوں۔اس کے بہت سے پہلو ہیں جن کو آنحضرت ﷺ نے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے آپ سے فیض پاتے ہوئے خوب کھول کھول کر ہمارے سامنے بیان فرمایا۔پس وہ آیات جو کھول کھول کر مضمون کو بیان کرتی ہیں اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر کس و ناکس ان سے گزرتے ہوئے فوراً ان کے مطالب کی تہہ تک اتر جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جن کو خدا تعالیٰ نے عرفان کی طاقت بخشی ہو یعنی آنحضرت ﷺ جن پر ان آیات کا نزول ہوا اور وہ جنہوں نے آنحضور سے فیض پایا ہو، ان کو یہ باتیں کھلی کھلی دکھائی دیتی ہیں اور اگر مخفی آنکھ سے،غفلت کی نظر سے آپ دیکھیں گے تو ان کھلی کھلی باتوں میں بھی آپ کو کچھ دکھائی نہیں دے الله گا۔ایک منظر کشی ہے بس اس کے سوا اور کچھ بھی نہیں کہ کبھی فصلیں برباد ہو جایا کرتی ہیں۔مگر قرآن کریم یہاں انسان کی زندگی کی بے اعتمادی ،اس کی بے ثباتی کا منظر پیش کر کے